جامعہ کراچی کی جھاڑیوں میں آگ لگ گئی، فائر بریگیڈ حکام
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
جامعہ کراچی کی جھاڑیوں میں آگ لگ گئی جس پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ نے آدھا کلومیٹر ایریا کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ پہلے ایک گاڑی روانہ کی گئی تھی اور بعد میں 5 فائر ٹینڈرز آگ بجھانے کےلیے بھیجی گئیں۔
فائر بریگیڈ حکام نے یہ بھی بتایا کہ ہوا تیز ہونے کے باعث آگ پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا تھا، تاہم جھاڑیوں میں لگنے والی آگ کو پھیلنے سے روک لیا گیا۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق اب تک واقعے میں کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فائر بریگیڈ حکام
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔