مریم نواز کی خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تنقید، تعلیم و ترقی پر زور
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گجرات:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے بچوں کا مقدر انتشار، بدتمیزی یا پسماندگی نہیں ہو سکتا، وہ بھی ترقی اور تعلیم کے اتنے ہی حق دار ہیں جتنے ملک کے دیگر صوبوں کے نوجوان۔
یونیورسٹی آف گجرات میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف پنجاب کے نوجوان لاکھوں کی تعداد میں ٹیکنیکل ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف خیبرپختونخوا کے حالات تشویشناک بتائے جاتے ہیں، وہ صوبائی عہدے سے پہلے خود کو پاکستانی سمجھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ملک کے ہر خطے میں یکساں ترقی ہو۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ تیرہ برسوں میں خیبرپختونخوا کے عوام کو وہ ترقی نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق تھے اور وہاں کے لوگوں کو ترقی کے ثمرات سے مکمل طور پر آگاہی نہیں دی گئی، یہ خوشی کی بات نہیں بلکہ افسوس کی بات ہے کہ بعض علاقوں کے بچے بنیادی سہولتوں اور معیاری تعلیم سے محروم رہ جائیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ کسی بھی صوبے کے راستے بند کرنے یا رکاوٹیں کھڑی کرنے سے دوسرے علاقوں کے کاروبار یا ترقی پر فرق نہیں پڑتا، اصل ضرورت باہمی تعاون اور مثبت سوچ کی ہے، پاکستان کے تمام صوبے ایک جسم کی مانند ہیں اور اگر ایک حصہ کمزور ہو تو پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے خیبرپختونخوا کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب کے ترقیاتی ماڈل کو دیکھیں اور اپنے بچوں کو تعلیم، ہنر اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں، نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھیں، نفرت کے بجائے علم اور تحقیق کو اپنائیں اور ملک کی تعمیر میں فعال کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا کے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔