Jasarat News:
2026-06-02@22:04:21 GMT

بنگلا دیش سیاست کی نئی کروٹ

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بنگلا دیش کی سیاست میں عام انتخابات کے بعد حالات ایک نئی کروٹ لے رہے ہیں جو جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ میں ایک خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔ 12 فروری کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ اور مستقبل کے وزیراعظم طارق رحمن انتخابات میں اپنے حریف سیاسی اتحاد کے سربراہ اور مستقبل میں اپنی حکومت کے نقاد جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کے وسندھرا میں واقع رہائش دفتر پہنچ گئے، انہیں اپنی جانب سے خیر سگالی کے جذبات کے ساتھ گلدستہ پیش کیا اور بطور وزیراعظم حلف برداری سے قبل ان سے اہم مشاورت کی۔ فریقین کے مابین اس مشاورت میں بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر اور پارٹی کی مستقل کمیٹی کے رکن نذر الاسلام خان بھی طارق رحمن کے ہمراہ تھے جبکہ جماعت اسلامی کے وفد میں ڈاکٹر شفیق الرحمن کے علاوہ نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر اور احسان المحبوب زبیر ایڈووکیٹ شامل تھے۔ دونوں جماعتوں کی قیادت میں انتہائی خوشگوار ماحول اور ہم آہنگی کی فضا میں ملاقات ہوئی جس میں ملکی سلامتی، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ و احترام جیسے حساس موضوعات زیر بحث آئے۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حالات میں ملک کو سیاسی انتشار سے نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے تمام جمہوری قوتوں کا یکساں سوچ کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ میں بطور نئے وزیراعظم طارق رحمن کو پیشگی مبارکباد دیتا ہوں، ان کی میرے رہائشی دفتر آمد ہماری قومی سیاست کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، میرا خواب ایک ایسا بنگلا دیش ہے جو فسطائیت سے پاک ہو اور خود مختاری و عدل و انصاف کی بنیادوں پر قائم ہو۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے بتایا کہ طارق رحمن نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت مخالف سیاسی کارکنوں اور اقلیتی برادریوں پر حملوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے گی۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی قومی مفاد کے معاملات میں منتخب حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی تاہم نظریاتی اپوزیشن کے طور پر اپنے فرائض کی ادائیگی کے معاملے میں کوئی کوتاہی یا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب بی این پی کے سربراہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بنگلا دیش کی خارجہ پالیسی میں آئندہ ملک اور عوام کے مفادات کو ہرچیز پر فوقیت دی جائے گی، بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش اور اس کے عوام کے مفادات ہماری خارجہ پالیسی کا تعین کریں گے، جمہوریت پسند عوام نے ایک بار پھر ہمیں فتح دلائی، ہماری پالیسیوں کا مدار عوام اور ملک کے مفاد پر استوار ہوگا۔ بنگلا دیش میں مستقبل کی حکومت اور حزب اختلاف کے رہنمائوں کی یہ خیر سگالی ملاقات اور باہمی مشاورت سے آگے بڑھنے کا جذبہ یقینا ملک و قوم کے روشن مستقبل کی حکومت اور حزب اختلاف کے رہنمائوں کی یہ خیر سگالی ملاقات اور باہمی مشاورت سے آگے بڑھنے کا جذبہ یقینا ملک و قوم کے روشن مستقبل کی نوید قرار دیا جاسکتا ہے۔ جس کا آغاز انتخابات کے فوری بعد جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کی جانب سے ان جذبات کے اظہار سے کیا گیا تھا کہ وہ ملک کے مفاد میں مثبت سیاست کو فروغ دیں گے اور مخالفت برائے مخالفت کی سیاست سے احتراز کیا جائے گا جس کا نہایت عمدہ جواب بی این پی کی قیادت کی جانب سے دیا گیا، مستقبل کے وزیراعظم طارق رحمن کا اپنے نئے منصب کا حلف اٹھانے سے قبل حزب اختلاف کے اتحاد کے سربراہ سے ان کی رہائش گاہ پر جا کر ملاقات کرنا اور ان سے اہم سیاسی امور پر مشورہ لینا نہایت خوش آئند ہے۔ یہ مشاورت ایسے وقت میں اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہے جب نئی حکومت کی تشکیل اور سیاسی استحکام کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے ہیں، ملک ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کرنے جارہا ہے۔ اس مرحلے پر یہ ملاقات ملک میں دیرپا امن اور ترقی و خوش حالی کی ضمانت ثابت ہوسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن اگرچہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ملک میں متفقہ یا اتفاق رائے کی حکومت کے قیام کا عندیہ دیتے رہے ہیں جس کی بنیاد پر بعض سیاسی مبصرین کی رائے میں بی این پی اور جماعت اسلامی کی قیادت کی یہ قربتیں مستقبل قریب میں ملک میں ’’گرینڈ الائنس‘‘ کی شکل اختیار کرسکتی ہیں تاہم فی الوقت اس قسم کی توقع یا پیش گوئی خاصی قبل از وقت ہے، البتہ فریقین کے اب تک کے مثبت طرزِ عمل اور دوطرفہ خیر سگالی کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے مضبوط پارلیمانی تعاون کی جانب ٹھوس اور خوش آئند پیش رفت ضرور قرار دیا جاسکتا ہے جو بلاشبہ بنگلا دیش اور اس کے عوام کے روشن اور تابناک مستقبل کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے اگرچہ مثبت سیاست کی یقین دہانی، مخالفت برائے مخالفت کے رویہ سے گریز اور ملکی مفاد میں حکومت سے تعاون کا یقین دلایا ہے تاہم اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ بنگلا دیش کے عوام نے انہیں حکومتی کارکردگی پر تنقیدی نظر رکھنے کی ذمے داری سونپی ہے۔ اسی لیے بی این پی کے وفد سے ملاقات کے بعد جہاں انہوں نے حکمران جماعت اور نئے بنگلا دیشی وزیراعظم کو پیشگی مبارکباد دی ہے اور قومی مفاد میں تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے وہیں انہوں نے بطور قائد حزب اختلاف یہ وضاحت بھی ساتھ ہی کردی ہے کہ نظریاتی اپوزیشن کے طور پر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی یا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا جس کی ایک عملی مثال اس صورت میں سامنے آئی ہے کہ جس روز دونوں جماعتوں کی قیادت کے مابین یہ خیرسگالی ملاقات اور مشاورت جاری تھی، اسی روز ڈھاکا میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر میں 11 جماعتی اتحاد کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور 11 جماعتی اتحاد کے رابطہ کار ڈاکٹر اے ایچ ایم، حمید الرحمن آزاد نے اس اجلاس کی صدارت ی جس میں ملک کے 13 ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے نتائج میں مبینہ دھاندلی، پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے اور دیگر بے ضابطگیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایک جانب تو 11 جماعتی انتخابی اتحاد نے آئندہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر متحدہ پلیٹ فارم کے طور پر کردار ادا کرنے اور ملک، قوم اور عوام کے مفاد میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ دوسری جانب انتخابات کے بعد 13 فروری کی رات عجلت میں گزٹ جاری کیے جانے کے باعث جن نشستوں پر بے ضابطگیاں ہوئیں وہاں آر پی او کے تحت دوبارہ گنتی کا موقع نہ ملنے سے امیدوار اپنے حق سے محروم رہے، ان معاملات میں ازالہ کے لیے عدالت عالیہ میں رٹ دائر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اسی مقصد کی خاطر 30 سے زائد نشستوں پر مبینہ دھاندلی کی شکایات پر 11 جماعتی اتحاد کے رہنمائوں نے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ اجلاس میں 12 فروری کو انتخابات کے موقع پر جولائی چارٹر کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں پارلیمنٹ کے آغاز کے 180 دنوں کے اندر مرحلہ وار ’’جولائی چارٹر‘‘ پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ 11 جماعتی اتحاد کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حزب اختلاف کی قیادت ذمے داری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کررہی ہے اور خیرسگالی کے جذبات کی رو سے بہہ کر بطور حزب اختلاف اپنی ذمے داریوں کو فراموش نہیں کیا گیا۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن ڈاکٹر شفیق الرحمن نے جماعتی اتحاد انتخابات کے حزب اختلاف خیر سگالی بنگلا دیش کے سربراہ بی این پی کی حکومت مفاد میں نہیں کیا اتحاد کے کی قیادت کے مفاد کیا گیا کے ساتھ میں ملک عوام کے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی