اسلام آباد میں سڑکوں پر افطار کرانے کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے رمضان 2026 سے قبل ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سڑکوں اور عوامی مقامات پر افطار دسترخوان لگانے کے لیے پیشگی اجازت اور باقاعدہ رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام ٹریفک کی روانی، سیکیورٹی خدشات اور صفائی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: عمان میں رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری سے ہوگا، رویتِ ہلال کمیٹی کا اعلان
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف شاہراہوں، چوراہوں اور فٹ پاتھوں پر بغیر اجازت افطار دسترخوان لگانے سے ٹریفک جام اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ بعض مقامات پر ہنگامی گاڑیوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی، جس کے باعث شہریوں کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں۔
نئے فیصلے کے تحت جو بھی تنظیم، فلاحی ادارہ یا شہری گروپ عوامی افطار کا اہتمام کرنا چاہے گا، اسے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر آفس یا ضلعی انتظامیہ سے پیشگی این او سی حاصل کرنا ہوگا۔ درخواست گزاروں کو مقام، وقت، متوقع شرکا کی تعداد اور سیکیورٹی و صفائی کے انتظامات کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
ضلعی حکام نے واضح کیا ہے کہ بغیر اجازت سڑک یا عوامی جگہ پر افطار دسترخوان لگانے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانہ اور سامان کی ضبطی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم فلاحی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی جاری رہے گی، بشرطیکہ وہ مقررہ ضابطہ کار کے مطابق انجام دی جائیں۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا میں رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری سے ہوگا، علما کی اتحاد و یکجہتی کی اپیل
شہری حلقوں نے فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ افراد اسے نظم و ضبط کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ فلاحی سرگرمیوں کو سہل بنانے کے لیے رجسٹریشن کا عمل سادہ اور تیز ہونا چاہیے۔
انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مستحق افراد کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ خیراتی سرگرمیاں جاری رہیں اور شہری نظم و ضبط بھی برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد رجسٹریشن لازمی سڑکوں پر افطار ضلعی انتظامیہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد رجسٹریشن لازمی سڑکوں پر افطار ضلعی انتظامیہ پر افطار کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.