بنگلا دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ڈھاکہ (نیوز ڈیسک) بنگلا دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے کہا کہ عبوری حکومت سبکدوش ہو رہی ہے، عام انتخابات میں ووٹرز، سیاسی جماعتوں نے مثال قائم کی۔
انہوں نے یہ اعلان قوم سے خطاب کے دوران کیا جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت اب سبکدوش ہو رہی ہے اور نئی منتخب حکومت کے آنے کا راستہ ہموار ہو چکا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ بنگلہ دیش میں جمہوری عمل، آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کو جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی شاندار کامیابی کی بھی تعریف کی اور پارٹی کے سربراہ طارق الرحمان کو مبارکباد دی، محمد یونس نے کہا کہ انتخابات میں ووٹرز اور سیاسی جماعتوں نے ایک مثال قائم کی ہے، جس سے مستقبل میں جمہوری طریقہ کار مضبوط ہو گا۔
واضح رہے کہ عبوری حکومت تقریباً 18 ماہ سے ملک چلا رہی تھی، اس دوران محمد یونس نے 2024ء میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی عبوری دور کی قیادت کی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے منعقدہ عام انتخابات میں بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جس کے بعد نئی حکومت کے عہدے سنبھالنے کا اعلان ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محمد یونس نے انہوں نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔