کراچی میں رمضانوں کی آمد سے قبل پھلوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
کراچی میں رمضان کی آمد سے قبل پھلوں کی قیمت آسمان کو پہنچ گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں سرکاری نرخ سے زائد پھلوں کی فروخت جاری شہریوں کے لیے رمضان میں غذائیت کا حصول مشکل ہوگیا۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان کی آمد کے ساتھ ہی کھانے پینے کی دیگر اشیاء کے ساتھ پھلوں کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگیا ۔
کیلے نایاب ہوگئے، خربوزہ تربوز نے ڈبل سینچری سے آغاز کیا سیب کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ رمضان کی آمد سے قبل 100 روپے درجن فروخت ہونے والا کیلا 200 روپے درجن فروخت ہونے لگا، خربوزہ اور تربوز 200 روپے کلو فروخت ہونے لگے۔
مزید پڑھیںپنجاب میں رمضان کے دوران دکانیں رات کو 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ واپس
یکم رمضان کو ملک بھر میں بینک تعطیل کا اعلان
سندھ میں رمضان کے دوران سرکاری دفاتر کے اوقاتِ کار جاری
اسی طرح امرود 250 روپے، 150 روپے کلو فروخت ہونے والا چیکو بھی 200 روپے سے زائد فروخت ہوگیا جبکہ گولڈن سیب 300 ایرانی سیب 400 روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔
شہر میں پپیتا 300 روپے کلو کیوئ 600 روپے اسٹرابیری 250 روپے کلو فروخت کی جارہی ہے، 200 روپے درجن عام۔فروخت ہونے والا کینو اب 300 روپے درجن، موسمی 150 سے بڑھ کر 200 روپے درجن فروخت کی جارہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان میں کم آمدن والے طبقے کے لیے پھل کھانا ممکن نہیں رہتا شہریوں کے پاس پھلوں کے بائیکاٹ کے علاؤہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔
ادھر پھل فروشوں کا کہنا ہے کہ گاہک اور انتظامیہ کا سارا زور ٹھیلے والوں پر چلتا ہے سبزی منڈی میں پھلوں کی قیمت کو کوئی پوچھنے والا نہیں جو مہنگائی کی بنیادی وجہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روپے کلو فروخت پھلوں کی قیمت فروخت ہونے روپے درجن
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔