پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا‘ کاشف سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260218-08-21
کراچی‘ سکھر (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے احترام رمضان آرڈیننس پر عملدر آمد کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس مہینے رمضان المبارک کے آغاز سے قبل پیٹرول کی قیمت میں 5 جبکہ ڈیزل 7 روپے 32پیسے مہنگا کرنے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، عوام جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بلوں سے پریشان ہیں جبکہ دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑکر رکھ دی ہے، ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر کارپٹ بمباری کے مترادف ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگا بلکہ اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی تمام چیزیں مہنگی ہو جائیں گی۔ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے سے قبل قیمتوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ سحر و افطار کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز مزید متحرک ہو جائیں گے اور مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کا استحصال کریں گے۔ بدل دو نظام کو سنوار دو سندھ کو مہم سمیت دعوت کے ابلاغ کے لیے ذمے داران سوشل میڈیا کے تمام ٹولز کو بہتر انداز میں استعمال کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں سوشل میڈیا میٹ اپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی نائب امیر پروفیسر نظام الدین میمن، ڈپٹی جنرل سیکرٹری علامہ حزب اللہ جکھرو اور سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا نے بھی خطاب کیا جبکہ سکھر و لاڑکانہ ڈویژن کے ڈجیٹل میڈیا کے ذمے داران شریک تھے۔ صوبائی امیر کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا، یہ2 دھاری تلوار کی مانند کی طرح ہے،معاشرے کے بگاڑ ،بنائو اور کسی بھی تنظیم کی دعوت، منشور اور مہمات کو چلانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جانا ازحد ضروری امر ہے، سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے،جو لوگوں کو جسمانی طور پر موجود ہونے کے بغیر بات چیت کرنے کی اجازت دیتا ہے اور آج دنیا میں روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن گیا ہے، سوشل میڈیا کا استعمال روز مرہ زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے، نام نہاد حکمران ٹولے کی جانب سے قومی میڈیا پر پابندیوں اور پیکا ایکٹ کے نام پر صحافت کو اپنے گھر کی لونڈی بنادیا گیا ہے، جس کی وجہ سے آج لوگ حقائق کو جانچنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔تاہم تحریک اسلامی سے وابستہ افراد کو سوشل میڈیا پر احتیاط قومی وقار اور زبان و بیان کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ سکھر میں سوشل میڈیا میٹ اپ سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔