اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا
بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میری آنکھ ٹھیک نہیں ہے، ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹرعاصم کی مجھ تک رسائی دلوائی جائے، وہ کہہ رہے ہیں میرا بلڈ ٹیسٹ انہیں دکھایا جائے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے آخری ملاقات میں مجھے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے اور یہ لوگ ایسا کام کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اپنی بہن علیمہ خان کے ہمرا ہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں صبح کال آئی اور کہا کہ آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کے لیے بھیج دیں گے، ہم نے کہا کہ ہم ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، ہم کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کریں گے اور ہم نے کہا کہ ڈاکٹر برکی کو بھیج دیں لیکن انہوں نے کہا کہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف اس کو بھیجیں گے جو ہمارا اعتبار والا ڈاکٹر ہو گا، ہم نے کہا کہ چلیں ڈاکٹر عاصم کو بھیج دیں، جو رپورٹ آئی ہے پبلک ہوئی ہے وہ ایک مذاق ہے، اس کے دن صرف کلینکل ایگزامینیشن ہے، ڈایگنوسز نہیں ہے۔ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ مجھے کسی چیز کا یقین نہیں ہے، وہ کسی وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے، ایک رپورٹ میں ٹریٹمنٹ پلان بھی نہیں لکھا ہوا، آپ نے نان میڈیکل لوگوں کو بلا لیا، ہمیں جس چیز کی فکر تھی وہی ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پوری دنیا سے ڈاکٹروں کے پیغامات آئے کہ یہ کیا لکھا ہے، اتنے عرصے سے ان کی بات سن رہیہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں بس، جو انجکشن لگایا ہے اس سے فوراً ٹھیک تھوڑی ہو جائے گا، ایک انجکشن سے نظر ٹھیک ہو گئی، یہ کوئی جادو تھا۔انہوں نے کہا کہ اس کی مانیٹرنگ ہوتی ہے، کیا انجکشن لگایا، زہر کا لگایا؟ یہ لوگ یہ کام کر سکتے ہیں، اگر سب کچھ ایسا ہی ہے جیسا یہ بتا رہے ہیں تو پھر ہمیں ملنے کیوں نہیں دیتے، ان کو ڈر کس بات کا ہے۔ڈاکٹر عظمیٰ خان نے کہا کہ آخری ملاقات میں بانی نے مجھے ایک بات کہی تھی، میں نے کرنی نہیں تھی، بانی چئیرمین نے کہا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے اور اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ ایسا کچھ کریں گے تو ہم ان کی نسلیں تباہ کر دیں گے، ہم ضرور نکلیں گے۔علیمہ خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں چکری پر روک لیا گیا، چار سوا چار بجے تک ہمیں روکا گیا اور آج ہمارا پریس کانفرنس کرنا ضروری تھا، بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جو حالت بنی ہوئی ہے اس پر بات کرنی تھی۔انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے ذریعے ہمیں پیغام ملا کہ بانی چئیرمین کہ رہے ہیں میری آنکھ ٹھیک نہیں ہے لہٰذا ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کی مجھ تک رسائی دلوائی جائے، وہ کہہ رہے ہیں کہ میرا بلڈ ٹیسٹ انہیں دکھایا جائے۔علیمہ خان نے کہا کہ میں کبھی کسی پر بات نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ ہمیں جیل پر اعتبار کرنا چاہیے، جب ہمیں سلمان صفدر نے تفصیلات بتائی تھیں تو ہم جیل گئے تھے، ڈاکٹر عظمیٰ تو فوراً پیچھے پڑ جاتی ہیں اگر عمران خان کو تھوڑی سی بھی کھانسی آئے، اگر ایک انسان خود کہہ رہے ہے تو سوچیں اس کی حالت کیا ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ بانی چئیرمین نے کہا کہ میں دو ہفتوں تک کہتا رہا کہ مجھے نظر نہیں آرہا، سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا جائے کہ اتنے کیمرے لگے ہونے کے باوجود انہیں پتا نہیں چل رہا تھا کہ بانی کو نظر نہیں آرہا، اس کو بانی چئیرمین پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں کریمنل نگلیجنس، ہم کہ رہے ہیں کرمنل ایکٹ ہے۔علیمہ خان نے کہا کہ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ سب سے اچھی جگہ شفا انٹرنیشل اسپتال اسلام آباد ہے، عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر ساتھ ہوں اور فیملی ارکان ہوں، ہمیں پیغام دیا گیا کہ وہ تیار ہیں کہ شفا انٹرنیشل اسپتال میں علاج کروا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کنفوژن یہ ہوگئی کہ راولپنڈی والا نہیں اسلام آباد والا، کہا گیا کہ کسی بہن کو بانی چئیرمین سے ملاقات نہیں کرنے دی جائے گی تو ہم نے فورا ڈاکٹر برکی کا نام دیا، ہم ان کے ساتھ تعاون کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈاکٹر برکی بھی قبول نہیں ہے اور کہا کہ جیل انتظامیہ کہہ رہی ہے قاسم زمان کو بھیج دیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس پر ہم نے کہا کہ وہ کیوں وہ تو ڈاکٹر بھی نہیں ہے، محسن نقوی نے سری لنکا جانے سے پہلے کہا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج ہو گا، یہ پیغام وہ ہے جو ہمیں دیا گیا، بانی چئیرمین کے ذاتی معالج اور ایک فیملی ممبر کو بھیجا جائے، یہ کون ہوتے ہیں بتانے والے کہ کون جائے گا۔علمیہ خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ بہنیں قبول نہیں ہے ہم نے بہنوں کو لسٹ سے نکال دیا اور ہمیں اچانک پتا چلتا ہے کہ جیل میں ٹیم چلی گئی ہے، میڈیا ہی ہمیں بتا رہا تھا کہ بانی چئیرمین کو کہاں لے کر جا رہے ہیں، ہمیں کیا پتا تھا کہ سچ میں ایک ٹیم اڈیالہ بھیج دی گئی ہے اور شفا انٹرنیشنل کی کمٹنٹ پوری نہیں کی گئی اور ہمارے ڈاکٹروں کا انکار ہوگیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس ہم نے کہا کہ ڈاکٹر عظمی ڈاکٹر برکی خان نے کہا علیمہ خان کہا کہ ہم بھیج دیں کہا کہ ا کہ بانی کو بھیج کہہ رہے رہے ہیں نہیں ہے کہ ہمیں نہیں ا دیں گے یہ لوگ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک