Express News:
2026-06-02@23:00:35 GMT
لاہور میں دلخراش واقعہ، مخالفین کو پھنسانے کے لیے باپ نے اپنے5 سالہ بیٹے کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
لاہور میں دلخراش واقعہ، مخالفین کو پھنسانے کے لیے 5 سالہ بیٹے کو قتل کردیا۔
رپورٹ کے مطابق پانچ سالہ اذان نامی بچہ چوہنگ سے اغواء ہوا تھا، اغواء کے بعد بچے کی لاش کاہنہ کے علاقہ سے ملی، بچے کو تیز دار آلے سے قتل کیا گیا۔
بچے کے اغواء کا مقدمہ بچے کی والدہ کے بیان پر درج ہوا، پولیس تحقیقات میں شک گزرنے پر بچے کے باپ کو گرفتار کیا، دوران تفتیش ملزم اعظم نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔
پولیس ذرائع نے کہا کہ اغواء اور قتل کی واردات میں ملزم کے ساتھ ایک اور ملزم بھی ملوث تھا، مخالفین کو پھنسانے کے لیے بیٹے کو قتل کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔