اداکارہ مشی خان کی کرکٹرعماد وسیم کی دوسری شادی پر کڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اپنے خیالات کا اظہار کرنے والی معروف پاکستانی اداکارہ و میزبان مشی خان نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راونڈر عماد وسیم کو سابقہ اہلیہ کے حوالے سے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اداکارہ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے حال ہی میں دوسری شادی کرنے والے کھلاڑی پر برہمی کا اظہار کیا ہے، اپنی شیئر کردہ ویڈیو میں مشی خان نے عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آپ معاشرے کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کہ دھوکا دینا معمول کی بات ہے اور دھوکے کے بعد شادی کرنا کوئی جرم نہیں؟سوشل میڈیا پر متعدد صارفین مشی خان کی جانب سے مبینہ بے وفائی اور ازدواجی معاملات پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے کو سراہ رہے ہیں تاہم دوسری جانب عماد وسیم کی دوسری اہلیہ نائلہ راجہ کی جانب سے کھلاڑی سے شادی کی تصدیقی پوسٹ سامنے آنے کے بعد اداکارہ حرا خان بھی خاموش نہ رہ سکیں۔ حرا خان نے نائلہ راجہ کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا انفلوئنسر کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کہ ’کیا ڈھٹائی ہے‘۔ واضح رہے کہ عماد وسیم نے رواں ہفتے کے آغاز میں اپنی مبینہ گرل فرینڈ نائلہ راجہ سے دوسری شادی کا اعلان کیا، جو ان کی پہلی اہلیہ ثانیہ اشفاق سے طلاق کے 2 ماہ بعد سامنے آیا۔ ثانیہ اشفاق نے کھلاڑی پر 2023ء میں اسقاطِ حمل اور تیسرے بچے کے حمل کے دوران دھوکا دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ نائلہ راجہ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دوسرا موقع محض آزمائش نہیں ہوتا، کبھی کبھار یہ اللّٰہ کی طرف سے نعمت بھی ثابت ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا نائلہ راجہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔