پنجاب حکومت کی اپنی ایئرلائن اپریل سے فعال کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کی اپنی فضائی سروس شروع کرنے کا منصوبہ تیز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پنجاب ایئر لائن کی پہلی پرواز آئندہ اپریل میں شروع کی جائے گی، جس کے لیے ابتدائی مرحلے میں سات طیارے حاصل کیے جا رہے ہیں، یہ ایئر لائن صوبے کی ملکیتی فضائی کمپنی ہوگی اور اس کا مقصد مقامی سطح پر فضائی سفر کو بہتر اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں ابتدائی دو برس تک صرف اندرونِ ملک پروازیں چلائی جائیں گی تاکہ آپریشنل نظام، روٹس اور سروس معیار کو مستحکم کیا جا سکے۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے لیے ریگولیٹری منظوریوں اور آپریشنل تیاریوں پر کام جاری ہے۔
حکام کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کا موجودہ سرکاری ہیلی کاپٹر بھی پنجاب ایئر لائن کے فلیٹ میں شامل کر دیا جائے گا جبکہ وزیراعلیٰ سرکاری سفر کے لیے اسی ایئر لائن کے جہاز استعمال کریں گی اور اس مقصد کے لیے الگ خصوصی طیارہ نہیں خریدا جائے گا، وزیراعلیٰ کی جانب سے استعمال کیے جانے والے جہاز کا باقاعدہ کرایہ ادا کیا جائے گا تاکہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت برقرار رہے۔
مزید بتایا گیا کہ حکومت نے قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہ ڈالنے کی پالیسی اپنائی ہے اور موجودہ و نئے جہازوں کو مکمل طور پر کمرشل بنیادوں پر چلایا جائے گا تاکہ ایئر لائن خود کفیل ہو سکے، فلیٹ میں شامل طیارے مسافروں اور سرکاری استعمال دونوں کے لیے دستیاب ہوں گے، ترجیح کمرشل آپریشن اور آمدنی کے حصول کو دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایئر لائن جائے گا کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔