کینسر مریضوں کے لیے تشویش ناک انکشاف، الٹرا پراسیسڈ فوڈز خطرناک ثابت
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کینسر کے مریضوں کے لیے خوراک کے حوالے سے ایک نئی سائنسی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق نئی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ وہ مریض جو الٹرا پراسیسڈ فوڈز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، انہیں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق ایک معروف بین الاقوامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اسے امریکی تحقیقاتی ادارے برائے کینسر کے آفیشل جرنل کا درجہ حاصل ہے۔
اطالوی ماہرین نے جنوبی اٹلی کے علاقے مولیز میں 2005 سے 2022 تک 24 ہزار سے زائد افراد کے طویل المدتی ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ ان میں 800 سے زائد ایسے افراد بھی شامل تھے جو کینسر سے صحتیاب ہو چکے تھے۔
محققین نے ان افراد کی غذائی عادات کا تفصیلی تجزیہ کیا اور انہیں الٹرا پراسیسڈ خوراک کے استعمال کی بنیاد پر مختلف گروپوں میں تقسیم کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کی خوراک میں ایسی اشیا کا تناسب زیادہ تھا، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ تقریباً 48 فیصد جبکہ کینسر سے موت کا خطرہ 59 فیصد تک بڑھ گیا۔
الٹرا پراسیسڈ فوڈز میں آئس کریم، پراسیسڈ گوشت، پیکٹ چپس، بیکری مصنوعات، فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور مصنوعی مٹھاس والی اشیا شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان غذاؤں میں شامل کیمیکل ایڈیٹوز، مصنوعی رنگ اور ذائقہ بڑھانے والے اجزا جسم کے میٹابولزم کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر ماریالورا بوناشیو کے مطابق صنعتی پراسیسنگ کے دوران خوراک کی ساخت میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جو آنتوں کے مفید بیکٹیریا کے توازن کو بگاڑ سکتی ہیں اور جسم میں سوزش بڑھا سکتی ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ بظاہر کیلوریز اور غذائیت ایک جیسی ہونے کے باوجود خوراک کی تیاری کا طریقہ صحت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرین نے کینسر کے مریضوں اور صحتیاب افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تازہ، قدرتی اور کم پراسیس شدہ غذاؤں کو ترجیح دیں۔ اس تحقیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بیماری سے لڑائی صرف ادویات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ خوراک بھی اس میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الٹرا پراسیسڈ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔