data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کینسر کے مریضوں کے لیے خوراک کے حوالے سے ایک نئی سائنسی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق نئی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ وہ مریض جو الٹرا پراسیسڈ فوڈز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، انہیں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق ایک معروف بین الاقوامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اسے امریکی تحقیقاتی ادارے برائے کینسر کے آفیشل جرنل کا درجہ حاصل ہے۔

اطالوی ماہرین نے جنوبی اٹلی کے علاقے مولیز میں 2005 سے 2022 تک 24 ہزار سے زائد افراد کے طویل المدتی ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ ان میں 800 سے زائد ایسے افراد بھی شامل تھے جو کینسر سے صحتیاب ہو چکے تھے۔

محققین نے ان افراد کی غذائی عادات کا تفصیلی تجزیہ کیا اور انہیں الٹرا پراسیسڈ خوراک کے استعمال کی بنیاد پر مختلف گروپوں میں تقسیم کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کی خوراک میں ایسی اشیا کا تناسب زیادہ تھا، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ تقریباً 48 فیصد جبکہ کینسر سے موت کا خطرہ 59 فیصد تک بڑھ گیا۔

الٹرا پراسیسڈ فوڈز میں آئس کریم، پراسیسڈ گوشت، پیکٹ چپس، بیکری مصنوعات، فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور مصنوعی مٹھاس والی اشیا شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان غذاؤں میں شامل کیمیکل ایڈیٹوز، مصنوعی رنگ اور ذائقہ بڑھانے والے اجزا جسم کے میٹابولزم کو متاثر کر سکتے ہیں۔

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر ماریالورا بوناشیو کے مطابق صنعتی پراسیسنگ کے دوران خوراک کی ساخت میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جو آنتوں کے مفید بیکٹیریا کے توازن کو بگاڑ سکتی ہیں اور جسم میں سوزش بڑھا سکتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ بظاہر کیلوریز اور غذائیت ایک جیسی ہونے کے باوجود خوراک کی تیاری کا طریقہ صحت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

ماہرین نے کینسر کے مریضوں اور صحتیاب افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تازہ، قدرتی اور کم پراسیس شدہ غذاؤں کو ترجیح دیں۔ اس تحقیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بیماری سے لڑائی صرف ادویات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ خوراک بھی اس میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: الٹرا پراسیسڈ

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق