عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی
انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا
سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے۔ دونوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ وہ دو سال سے زائد عرصے سے اپنے والد سے نہیں مل سکے۔ ویزے کے لیے درخواست جمع کرادی ہے مگر ابھی تک جواب نہیں ملا۔ عمران خان کے وکیل نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ حراست کے دوران سابق کپتان کی دائیں آنکھ کی بینائی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ تاہم پیر کے روز ایک میڈیکل بورڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ علاج کے بعد سوجن میں کمی آئی ہے اور بینائی میں بہتری ہوئی ہے۔ لندن میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے 26 سالہ قاسم اور 29 سالہ سلیمان نے میڈیکل رپورٹ پر غیر یقینی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ جمعرات کو ستمبر کے بعد پہلی مرتبہ اپنے والد سے بات کی۔ قاسم کے مطابق ان کے والد عموماً اپنی صحت کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے ہیں تاہم اس مرتبہ انہوں نے شکوہ کیا کہ چند ماہ تک آنکھ کے علاج تک رسائی نہیں دی گئی۔ قاسم نے کہاکہ اتنے طویل عرصے تک دور رہنے کی وجہ سے دل گرفتہ ہونا فطری بات ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو کسی مناسب طبی سہولت منتقل کیا جائے اور انہیں اپنے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ طبی کارروائیاں جاری ہیں اور اپوزیشن کے غفلت کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کے علاج سے متعلق تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن اور دفترِ خارجہ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ قاسم نے مزید کہا کہ ان کی فوری تشویش والد کی صحت ہے، تاہم دیگر اہم امور میں ”ان کی آزادی، انسانی حقوق کے تقاضوں کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور شفاف ٹرائل کی فراہمی” بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ نشریاتی اداروں کو عمران خان کا نام، تقاریر یا تصاویر نشر کرنے سے روکا گیا ہے اور گرفتاری کے بعد سے اب تک صرف ایک عدالتی تصویر ہی منظرِعام پر آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: عمران خان کے کے بعد
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند