26 نومبر احتجاج کیس، علیمہ خان کے 13ویں مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
راولپنڈی:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے 13ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنت گرفتاری جاری کر دیے۔
علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
عدالت میں علیمہ خان پیش نہ ہوئیں جس پر ان کے وکلا کی جانب سے دائر کردہ استثنا کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
عدالت نے علیمہ خانم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جبکہ ان کے دونوں ضمانتیوں کے بھی ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیے گئے۔
عدالت نے علیمہ خان کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا
پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں موجود رہی۔ پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے مطابق استغاثہ کے 38 گواہان اب تک عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خان جان بوجھ کر سماعت میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔
عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ علیمہ خان کو ہر حال میں 19 فروری کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ علیمہ خان اور ان کے ضمانتیوں کو گرفتار کر کے آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے۔
واضح رہے کہ علیمہ خان کے خلاف یہ 13ویں مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل گرفتاری جاری کہ علیمہ خان ضمانت وارنٹ عدالت میں عدالت نے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔