ایشیا میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
کراچی:
بنگلہ دیش نے 2025 میں سیاسی و معاشی ہنگامہ خیزی کا سامنا کیا، اس کے باوجود اس کی سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب 22.4 فیصد رہا جو پاکستان کے 13.8 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
پاکستان اب تک مالی سال 2022 کی 15.6 فیصد کی بلند ترین سطح بھی بحال نہیں کر سکا۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور ویتنام 30 فیصد سے زائد سرمایہ کاری کی سطح برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایشیا کی بڑی معیشتوں میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک ہے۔
صنعتی رہنمائوں کے مطابق اعلیٰ سطح کی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے باوجود بنیادی ساختی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔
اگرچہ حالات میں کچھ بہتری آئی ہے مگر صنعتی منصوبہ شروع کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں سے تقریباً 25 ریگولیٹری اجازت نامے درکار ہوتے ہیں، جس سے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
کاروباری حلقوں کے سینئر عہدیداران نجی طور پر سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔
ایک کاروباری تنظیم کے عہدیدار نے کہا نظم و ضبط انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ نئے خیالات کی حوصلہ شکنی بھی کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اب بھی عالمی سرمایہ کاروں کو روایتی منصوبوں کی پیشکش کر رہا ہے اور زیادہ تر مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) تک محدود ہے، بجائے اس کے کہ باضابطہ سرمایہ کاری معاہدے حاصل کیے جائیں۔
پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) کی ریسرچ اکانومسٹ مریم ایوب کے مطابق، ‘‘پاکستان کی سرمایہ کاری کی شرح خطے سے ساختی طور پر منقطع ہے۔
دیگر معیشتیں جھٹکوں کے باوجود کہیں زیادہ سرمایہ کاری برقرار رکھتی ہیں، جو عارضی نہیں بلکہ گہری داخلی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سرمایہ کاری جی ڈی پی تناسب مالی سال 2022 میں 15.
اس دوران بھارت نے 32 سے 35 فیصد، ویتنام نے 30 سے 33 فیصد اور بنگلہ دیش نے تاریخی طور پر تقریباً 30 فیصد کی سطح برقرار رکھی۔
ماہرین معاشیات کے مطابق 15 فیصد سے کم سرمایہ کاری کی سطح پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ بینکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران حکومتی قرض گیری نے نجی شعبے کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کی۔
حکومت کی ماہانہ قرض گیری 30 سے 36 کھرب روپے کے درمیان رہی، جبکہ نجی شعبے کو 9.5 سے 10.9 کھرب روپے تک محدود کریڈٹ ملا۔
کئی مواقع پر حکومتی قرض نجی قرض سے تین گنا زیادہ رہا۔مریم ایوب کے مطابق بینک حکومت کو قرض دینا ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ کم خطرے اور منافع بخش ہوتا ہے، جس سے بینک تو مستحکم رہتے ہیں مگر صنعت کو مالی وسائل نہیں ملتے۔
برآمدات اکتوبر میں 2.85 ارب ڈالر سے کم ہو کر دسمبر میں 2.32 ارب ڈالر رہ گئیں، مالی سال 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 2.49 ارب ڈالر رہی، جو مالی سال 2022 کے 1.9 ارب ڈالر سے کچھ بہتر ہے، مگر اسی عرصے میں منافع کی بیرونِ ملک منتقلی 1.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے خالص سرمائے میں اضافہ محدود رہا۔
جی ڈی پی کے محض 0.6 تا 0.7 فیصد کے برابر ایف ڈی آئی پاکستان کی مجموعی سرمایہ کاری میں معمولی کردار ادا کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 15 فیصد سے کم رہی تو پاکستان کی پائیدار شرح نمو 3 سے 4 فیصد تک محدود رہے گی، جو خطے کے مقابلے میں جمود کے مترادف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سرمایہ کاری پاکستان کی مالی سال کے مطابق ارب ڈالر جی ڈی پی فیصد سے
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔