پاک گلوبل فورم کے زیرِ اہتمام دمام میں تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی/ دمام (کامرس رپورٹر) پاک گلوبل فورم کے زیرِ اہتمام سعودی عرب کے شہر دمام میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے رمضان المبارک کی آمد کے سلسلے میں ’’استقبالِ رمضان‘‘ کے عنوان سے ایک پروقار اور روح پرور تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس بابرکت اجتماع میں کمیونٹی کی ممتاز سماجی، مذہبی اور کاروباری شخصیات نے بھرپور شرکت کی اور رمضان المبارک کی تیاری، اس کی فضیلت اور اجتماعی ذمہ داریوں پر اظہارِ خیال کیا۔تقریب کی صدارت پاک گلوبل فورم کے صدر پروفیسر احسان اللہ بھٹی نے کی جبکہ سرپرستی چیئرمین رانا جاوید اسلم نے انجام دی۔ اپنے افتتاحی کلمات میں مقررین نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک عبادات کے ساتھ ساتھ خود احتسابی، صبر، برداشت، ایثار اور باہمی ہمدردی کا عملی درس دیتا ہے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق ترجمان سپریم کورٹ سعودی عرب الشیخ منیر احمد قمر تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں رمضان المبارک کی روحانی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے، اپنی اصلاح کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے تقویٰ کے حصول، روزے کی اصل روح کو سمجھنے اور قرآنِ مجید سے تعلق مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔صدارتی خطاب میں پروفیسر احسان اللہ بھٹی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کو اجتماعی افطار پروگرامز کے انعقاد اور نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاک گلوبل فورم ہمیشہ کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم رہا ہے اور آئندہ بھی ایسے روحانی و سماجی پروگرامز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔تقریب سے معروف سماجی و کاروباری شخصیات عبدالصبور قریشی، رانا محمد اشرف، ڈاکٹر اسد محمود، ندیم اختر چوہدھری، غلام مصطفیٰ، ڈاکٹر منشاء طاہر، یعقوب سیفی، سید مزمل شاہ اور اشتیاق عباسی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور رمضان المبارک کی برکات، صدقہ و خیرات کی اہمیت، صلہ رحمی اور کمیونٹی سپورٹ پر روشنی ڈالی۔تقریب کے اختتام پر گرین گلوبل ہال میں شرکاء کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا، جہاں شرکاء نے باہمی ملاقات کی اور رمضان المبارک کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک کی پاک گلوبل فورم
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔