رمضان المبارک میں13 ہزار روپے کیسے ملیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے ماہ رمضان المبارک کے دوران ایک کروڑ 21 لاکھ مستحق خاندانوں کے لیئے 13 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 38 ارب روپے کے رمضان پیکج کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 39 ارب روپے رمضان ریلیف پیکیج کی منظوری دیدی۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا سے ویڈیو لنک پر اجلاس کی صدارت کی جس میں ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔
لاہور:ٹرانسپورٹرز کو 15 دن کی مہلت، لین ڈسپلن یقینی بنانے کی ہدایت جاری
اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026 کی منظوری دے دی گئی۔
وزارت تخفیف غربت اور سماجی تحفظ ای سی سی میں سمری پیش کی جس میں پیکیج کےتحت مستحق خاندانوں میں فی کس 13 ہزار تقسیم ہوں گے۔
مزید پڑھیں:گوگل نےکم قیمت گوگل پکسل 10 اےسمارٹ فون متعارف کروادیا
رمضان کےپہلے ہفتے کےدوران مستحقین کو رقوم منتقل کی جائیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ رمضان ریلیف پیکیج کی رقم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے تقسیم کی جائے گی۔
اوپن مارکیٹ میں آٹے کی قلت،شہری پریشان
وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کاحجم 29ارب روپے اس سال بجٹ سے فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعظم کے رمضان ریلیف پیکیج کیلئے 10 ارب روپے پہلے سے موجود ہیں۔
وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج سے ایک کروڑ 20لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ