خیبرپختونخوا حکومت نے انڈس ریور اور دریائے کابل سے سونا نکالنے پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں انڈس ریور اور دریائے کابل کے کناروں پر غیر قانونی کان کنی اور پلَیسر گولڈ نکالنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کر دی۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری حکم نامے کے مطابق یہ پابندی 60 روز کے لیے ضلع صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک سمیت ملحقہ علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اکرام اللہ خان کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ متعلقہ محکموں کی رپورٹس اور صوبائی کابینہ کے 37ویں اجلاس میں ہونے والی مشاورت کی روشنی میں کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق دریاؤں کے کناروں پر جاری غیر قانونی کان کنی سے ماحول کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا، پانی آلودہ ہو رہا تھا، قدرتی مناظر تباہ ہو رہے تھے اور مقامی آبادی کی صحت اور سلامتی کو خطرات لاحق تھے۔ یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسی غیر قانونی سرگرمیاں امن و امان کی خرابی، مقامی گروہوں کے درمیان تنازعات، غیر قانونی طور پر نکالے گئے مواد کی ترسیل اور کھدائی میں استعمال ہونے والے ایندھن کی اسمگلنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔ حکام کے مطابق بعض منظم گروہ مالی وسائل رکھتے ہیں اور کارروائی کے دوران مزاحمت بھی کر سکتے ہیں، جس سے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ صوبائی کابینہ نے محکمہ معدنیات کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر قانونی کان کنی کے خلاف مربوط کارروائی کرے، اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس تعاون فراہم کریں گی جبکہ ضرورت پڑنے پر اضافی نفری بھی تعینات کی جائے گی۔ حکم نامے کے تحت ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کریں، جس میں خلاف ورزی کرنے والوں کی مشینری، گاڑیاں اور دیگر آلات ضبط کرنا بھی شامل ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔