بنچ نے یہ بھی دلیل دی کہ ایسی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے، تاہم درخواست گزار کے وکیل بینچ کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج اس درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں مغل بادشاہ بابر یا بابری مسجد کے نام پر کسی بھی مسجد یا مذہبی ڈھانچے کی تعمیر یا نام رکھنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی۔ یہ معاملہ جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا کی بنچ کے سامنے سماعت کے لئے آیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے بابر کو حملہ آور قرار دیتے ہوئے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نہ کوئی مسجد بنائی جائے اور نہ ہی ان کے نام سے منسوب کیا جائے۔

بنچ نے یہ بھی دلیل دی کہ ایسی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔ تاہم درخواست گزار کے وکیل بینچ کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ وہ درخواست سننے کو تیار نہیں، جس کے بعد درخواست گزار کے وکیل نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی۔ عدالت نے درخواست گزار کو درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔

حال ہی میں ترنمول کانگریس کے سابق رہنما اور ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے مغربی بنگال کے مرشد آباد میں بابری مسجد کی طرز پر ایک نئی مسجد بنانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان نے تنازعہ کو جنم دیا۔ درخواست میں بھارت کی مرکزی حکومت، ریاستوں اور دیگر سے درخواست گزار کے کیس پر غور کرنے کی ہدایت مانگی گئی ہے، جس میں پورے ہندوستان میں بابر یا بابری مسجد یا بابر کے نام پر کسی بھی مسجد یا مذہبی ڈھانچے کی تعمیر، قیام یا نام رکھنے پر روک لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: درخواست گزار کے وکیل کے نام

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا