بابر کے نام پر مسجد کی تعمیر سے کوئی نہیں روک سکتا، سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
بنچ نے یہ بھی دلیل دی کہ ایسی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے، تاہم درخواست گزار کے وکیل بینچ کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج اس درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں مغل بادشاہ بابر یا بابری مسجد کے نام پر کسی بھی مسجد یا مذہبی ڈھانچے کی تعمیر یا نام رکھنے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی۔ یہ معاملہ جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا کی بنچ کے سامنے سماعت کے لئے آیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے بابر کو حملہ آور قرار دیتے ہوئے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نہ کوئی مسجد بنائی جائے اور نہ ہی ان کے نام سے منسوب کیا جائے۔
بنچ نے یہ بھی دلیل دی کہ ایسی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔ تاہم درخواست گزار کے وکیل بینچ کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ وہ درخواست سننے کو تیار نہیں، جس کے بعد درخواست گزار کے وکیل نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی۔ عدالت نے درخواست گزار کو درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔
حال ہی میں ترنمول کانگریس کے سابق رہنما اور ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے مغربی بنگال کے مرشد آباد میں بابری مسجد کی طرز پر ایک نئی مسجد بنانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان نے تنازعہ کو جنم دیا۔ درخواست میں بھارت کی مرکزی حکومت، ریاستوں اور دیگر سے درخواست گزار کے کیس پر غور کرنے کی ہدایت مانگی گئی ہے، جس میں پورے ہندوستان میں بابر یا بابری مسجد یا بابر کے نام پر کسی بھی مسجد یا مذہبی ڈھانچے کی تعمیر، قیام یا نام رکھنے پر روک لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: درخواست گزار کے وکیل کے نام
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔