کراچی: عمارت گرنے کا واقعہ، 3 سگی بہنیں بھی جاں بحق افراد میں شامل، ماں صدمے سے نڈھال
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
کراچی کے علاقے سولجر بازار میں دھماکے کےبعد گرنے والی عمارت نے کئی گھرانوں کی زندگیاں اُجاڑ دیں۔
سانحے میں 16 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ٹنڈو محمد خان کی تین سگی بہنیں بھی شامل تھیں۔ بہتر مستقبل کے خواب لیے یہ خاندان کراچی شہر آیا تھا، مگر ان کے خواب بھی ملبے تلے دب گئے۔
46 سالہ شہزادی لغاری کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے، ایک ماں اپنی تینوں بیٹیوں کے بچھڑ جانے کے صدمے سے نڈھال ہے۔
متاثرہ خاندان غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر چند سال قبل روزگار کی تلاش میں کراچی منتقل ہوا تھا۔ گھر کا سربراہ انور لغاری رکشہ چلا کر گھر کا خرچ اٹھاتے تھے، جبکہ سات بچوں میں سے تین بیٹیاں گھروں میں کام کاج کر کے باپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔
ان کے گاؤں میں ہر آنکھ اشکبار ہے۔ پڑوسی اور رشتہ دار افسردہ خاندان کو دلاسہ دے رہے ہیں۔
لواحقین حکومت اور مخیر حضرات سے اپیل کر رہے ہیں کہ متاثرہ خاندان کی فوری مالی اور انسانی بنیادوں پر مدد کی جائے تاکہ یہ گھرانہ اس سانحے کے بعد دوبارہ زندگی سنبھال سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔