سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے متنازع بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان کی نوعیت اور اس کے محرکات کو واضح کیا جائے۔ دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی امریکی سفیر کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

او آئی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس سے عالمی امن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب اور او آئی سی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے بیانات کا نوٹس لے اور مشرق وسطیٰ میں امن، خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے کہا تھا کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے، پورے خطے پر قبضہ اسکا حق ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بین الاقوامی قوانین

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل