مشرق وسطیٰ پر اسرائیلی قبضے سے متعلق بیان، سعودی عرب نے امریکی محکمہ خارجہ سے وضاحت طلب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے متنازع بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان کی نوعیت اور اس کے محرکات کو واضح کیا جائے۔ دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی امریکی سفیر کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
او آئی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس سے عالمی امن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب اور او آئی سی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے بیانات کا نوٹس لے اور مشرق وسطیٰ میں امن، خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے کہا تھا کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے، پورے خطے پر قبضہ اسکا حق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی قوانین
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔