دی ہنڈریڈ: بھارتی فرنچائزز کو یہ اجازت نہیں کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کریں، مائیکل وان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں شائع ہونے والے ایک کالم میں سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے خبردار کیا ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ انتظامیہ کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے کہ دی ہنڈریڈ میں شامل بھارتی ملکیت کی فرنچائزز پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کریں۔
کالم میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دی ہنڈریڈ کو ابتدا ہی سے ایک جامع اور ہمہ گیر ٹورنامنٹ کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد نئے اور متنوع شائقین کو کرکٹ کی طرف راغب کرنا تھا۔
ایسے میں اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں کہ نئے بھارتی مالکان سیاسی یا دوطرفہ کشیدگی کی بنیاد پر پاکستانی کرکٹرز کو منتخب نہیں کریں گے تو یہ نہ صرف ٹورنامنٹ کی بنیادی روح کے منافی ہوگا بلکہ انگلینڈ میں مقیم پاکستانی نژاد کرکٹرز اور شائقین کے لیے بھی تشویش کا باعث بنے گا۔
کالم کے مطابق حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی پہلے ہی دی ہنڈریڈ میں اپنی کارکردگی سے متاثر کر چکے ہیں، اس لیے کسی بھی قومی بنیاد پر امتیاز کھیل کے عالمی اور پیشہ ورانہ معیار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مائیکل وان نے اس امر پر زور دیا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو فوری اور واضح پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ یہ پیغام جائے کہ انگلش کرکٹ میں انتخاب صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ سیاسی وابستگی یا قومی شناخت کی بنیاد پر۔
رپورٹ کے مطابق اگر اس معاملے پر بروقت اقدام نہ کیا گیا تو اس کے طویل المدتی اثرات نہ صرف دی ہنڈرڈ بلکہ مجموعی طور پر انگلش کرکٹ کی ساکھ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دی ہنڈریڈ کی بنیاد بنیاد پر
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔