اداکارہ صبور علی کو بولڈ ساری پہننے پر شدید تنقید کا سامنا اداکارہ صبور علی کو بولڈ ساری پہننے پر شدید تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
معروف اداکارہ اور ماڈل صوبر علی کو بولڈ ساری میں فوٹو شوٹ کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حال ہی میں اداکارہ نے جامنی رنگ کی ساڑھی میں اپنی چند تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، گلیمرس میک اپ اور منفرد انداز میں اوڑھے گئے پلّو کے ساتھ لی گئی تصاویر میں صبور علی پُراعتماد نظر آئیں، انہوں نے مختلف انداز میں پوز دیتے ہوئے تصاویر مداحوں کے ساتھ شیئر کیں۔ تاہم انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے اس لباس کو حد سے زیادہ بولڈ قرار دیا۔ کچھ صارفین نے ان کے فیشن انتخاب پر تنقید کرتے ہوئے نامناسب تبصرے کیے، ایک صارف نے لکھا کہ وہ ایسی ساڑھیوں کی شوقین ہیں، جبکہ دوسرے نے لباس کو غیر مناسب قرار دیا، بعض صارفین نے رمضان المبارک کے حوالے سے بھی تنقیدی رائے کا اظہار کیا۔ دوسری جانب صبور علی کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کے اعتماد اور فیشن سینس کو سراہتے ہوئے انہیں خوبصورت اور باوقار قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: صبور علی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔