بنگلہ دیش: وزیراعظم طارق رحمان کی سعودی سفیر سے ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
وزیراعظم طارق رحمان نے امید ظاہر کی ہے کہ بنگلہ دیش اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ تعلقات مستقبل میں ’نئی بلندیوں‘ تک پہنچ جائیں گے۔
یہ بات انہوں نے اتوار کی صبح سیکریٹریٹ میں کابینہ ڈویژن کے دفتر میں بنگلہ دیش میں تعینات سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عبداللہ جعفر سے خیرسگالی ملاقات کے دوران کہی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی نئی کابینہ نے حلف اٹھالیا، وزیراعظم طارق رحمان نے 5 اہم وزارتیں اپنے پاس رکھ لیں
سعودی سفیر نے وزیراعظم طارق رحمان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ریاض کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب بنگلہ دیش کے ساتھ ’ہر ممکن تعاون‘ جاری رکھے گا۔
প্রধানমন্ত্রী তারেক রহমানের সঙ্গে সৌদি রাষ্ট্রদূতের সৌজন্য সাক্ষাৎ#TariqueRahman #bdministerinprogram #saudiarabia #ekhontv pic.
— Ekhon TV (@ekhon_tv) February 22, 2026
ملاقات میں وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اور وزیراعظم کے مشیر ہمایوں کبیر بھی موجود تھے۔
اس سے قبل وزیراعظم طارق رحمان صبح 9 بج کر 5 منٹ پر باقاعدہ طور پر دفتری امور کا آغاز کرنے کے لیے سیکریٹریٹ پہنچے، جہاں کابینہ سیکریٹری اے بی ایم عبد الستار نے ان کا استقبال کیا۔
حکام کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش دوطرفہ تعاون ڈاکٹر خلیل الرحمان ڈاکٹر عبداللہ جعفر ریاض سعودی سفیر ہمایوں کبیر وزیر اعظم طارق رحمان وزیر خارجہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش دوطرفہ تعاون ڈاکٹر خلیل الرحمان ڈاکٹر عبداللہ جعفر ریاض سعودی سفیر ہمایوں کبیر بنگلہ دیش
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔