Islam Times:
2026-06-02@23:49:26 GMT

ایران کیساتھ 40 سالہ کشمکش، امریکی تجزیہ کار کا نقطہ نظر

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

ایران کیساتھ 40 سالہ کشمکش، امریکی تجزیہ کار کا نقطہ نظر

اسلام ٹائمز: اگر امریکہ روایتی ڈیٹرنس اور کشیدگی کے انتظام کی صلاحیت بہتر بنا لے تو وہ مستقبل میں روس، چین اور شمالی کوریا جیسے چیلنجز کا بہتر مقابلہ کر سکے گا۔ ان کے مطابق ایران کے مقابلے میں کامیابی، چین اور روس کے خلاف حکمت عملی میں بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر اس تحقیق میں امریکہ کو ایران کے خلاف جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی پوزیشن مستحکم کی جا سکے۔ خصوصی رپورٹ:
  واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ماہر مائیکل آیزنشتات نے اپنی ایک تفصیلی تحقیق میں ایران اور امریکہ۔اسرائیل اتحاد کے درمیان جاری غیر متوازن جنگی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں ایران کے مقابلے میں امریکی ڈیٹرنس مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق اس ڈیٹرنس کی بحالی نہ صرف ایران بلکہ چین اور روس کے مقابلے میں بھی امریکہ کی طاقت بحال کرنے کی کنجی ہے۔ یہ تحقیق ’’ایران کے ساتھ ڈیٹرنس اور کشیدگی کی حرکیات: چار دہائیوں کی کشمکش اور بارہ روزہ جنگ کے تجربات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ آیزنشتات تسلیم کرتے ہیں کہ ایران نے انقلاب اسلامی کے بعد خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔ وہ گزشتہ چالیس برس کے تجربات کی بنیاد پر امریکہ کے لیے نئی حکمت عملی تجویز کرتے ہیں تاکہ ایران کے خلاف ڈیٹرنس کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے۔
  غیر متوازن جنگ کی ایرانی حکمتِ عملی: تحقیق کے آغاز میں آیزنشتات لکھتے ہیں کہ واشنگٹن کو ایران کی غیر متوازن جنگی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کے فوجی آپریشنل انداز کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہا اور مشرق وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ میں پھنسنے کے خدشے نے بھی مؤثر ردعمل کی راہ روکے رکھی۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ایران نے ’’گرے زون‘‘ یعنی درمیانی نوعیت کی حکمت عملی اپنائی، جس کا مقصد دشمن کی ڈیٹرنس پاور کو غیر مؤثر بناتے ہوئے خطرات کو قابو میں رکھنا ہے۔ ایران کو ابتدا ہی سے معلوم تھا کہ اس کی پالیسی امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں سے ٹکراؤ کا باعث بنے گی، اس لیے اس نے روس اور چین کی طرح ایسی حکمت عملی تیار کی جس سے وہ براہِ راست جنگ سے بچتے ہوئے اپنے مخالفین کو چیلنج کر سکے۔
  آیزنشتات کے مطابق ’’خطرے کا نظم و نسق‘‘ ایران کی اس حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے، جس کی ایک وجہ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے تلخ تجربات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کو ایک سخت اور مزاحم ملک سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ ایک بڑی جنگ سے گریز کو ترجیح دیتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایران بتدریج اقدامات کرتا ہے تاکہ اپنے ارادوں کے بارے میں ابہام برقرار رکھے اور مخالفین کو واضح ردعمل دینے سے روکے۔ اس کے اقدامات وقت اور جغرافیہ کے اعتبار سے پھیلے ہوتے ہیں، جس سے حریف کو فوری فیصلہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ گرے زون کی اس کشمکش میں امن اور جنگ کے درمیان واضح لکیر موجود نہیں ہوتی بلکہ حالات دھیرے دھیرے شدت اختیار کرتے اور پھر کم ہوتے رہتے ہیں۔
  امریکہ کے لیے بنیادی سوال اور تجاویز: آیزنشتات کے مطابق امریکہ کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ چار دہائیوں کی کشمکش اور ایران و اس کے اتحادیوں کے ساتھ براہِ راست جھڑپوں سے کیا سبق حاصل کیا جا سکتا ہے، اور ان کی روشنی میں ایسی کیا حکمت عملی بنائی جائے جس سے ایران کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچانے سے روکا جا سکے۔ 1) قواعدِ جنگ کا تعین:
ان کے مطابق گزشتہ دہائیوں میں امریکہ اور اسرائیل نے زیادہ تر ایران کے بنائے ہوئے اصولوں کے تحت ردعمل دیا، جس سے امریکی ڈیٹرنس پاور کمزور پڑی۔ 2) ایران کے لیے خطرات اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ:
وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کو چاہیے کہ ایران کے حساب کتاب کو پیچیدہ بنائے، غیر متوقع طرزِ عمل اپنائے اور بعض مواقع پر غیر متوازن حکمت عملی اختیار کرے۔ تاہم اس بات کا خدشہ بھی موجود رہے گا کہ ایران شدید ردعمل دے سکتا ہے۔ 3) ڈیٹرنس پاور ایک مسلسل عمل ہے:
ان کے مطابق طویل تنازعات میں ڈیٹرنس پاور کوئی مستقل حالت نہیں ہوتی بلکہ ایک جاری عمل ہے۔ ایران اور اس کے اتحادی مستقل حالات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ایک محاذ پر ناکامی کی صورت میں دوسرے محاذ پر سرگرم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے امریکہ کی کسی ایک میدان میں کامیابی دوسرے میدان میں نئے چیلنج کو جنم دے سکتی ہے۔ 4) غلط تصورات کو ترک کرنا:
 ان کے مطابق امریکی پالیسی سازوں کے ذہنوں میں ڈیٹرنس پاور اور کشیدگی سے متعلق کئی تصورات اور اصطلاحات رائج ہیں جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہی غلط فہمیاں ایران کے ساتھ غیر ارادی جنگ کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فیصلہ ساز اپنے فکری ڈھانچے پر نظرثانی کریں اور ’’ہمہ گیر جنگ‘‘ جیسے مبالغہ آمیز تصورات کو ترک کریں۔ 5) خفیہ اور اعلانیہ اقدامات کا امتزاج: تحقیق میں کہا گیا ہے کہ امریکہ داخلی سیاسی دباؤ کے باوجود ’’گرے زون‘‘ میں اپنی سرگرمیاں بڑھا سکتا ہے اور ساتھ ہی اپنی جدید فوجی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایران یا مزاحمتی محور کے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ آیزنشتات کے مطابق خفیہ اور اعلانیہ اقدامات کا یہ ملاپ زیادہ دیرپا ڈیٹرنس پیدا کر سکتا ہے۔ 6) جامع حکمتِ عملی اپنانا: وہ زور دیتے ہیں کہ ڈیٹرنس صرف فوجی کارروائی کا نام نہیں۔ مؤثر ڈیٹرنس کے لیے سفارتی، انٹیلی جنس، عسکری، اقتصادی اور سائبر سمیت قومی طاقت کے تمام ذرائع استعمال کرنا ہوں گے تاکہ مخالف کے لاگت و فائدے کے حساب کو بدلا جا سکے۔ ان کے مطابق سات اکتوبر کے بعد اسرائیلی معاشرے میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں اور امریکہ کے اندر سیاسی تقسیم بھی ڈیٹرنس کی صلاحیت پر اثرانداز ہوئی ہیں۔ 7) ڈیٹرنس پاور، دباؤ اور مداخلت میں توازن: آیزنشتات کہتے ہیں کہ ایران پر پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی امریکی کوششیں بعض اوقات الٹا فوجی ردعمل کا سبب بنی ہیں، جس سے ڈیٹرنس کمزور ہوئی۔ ان کے بقول اگر ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی اپنائی جائے تو اس کے لیے ’’زیادہ سے زیادہ ڈیٹرنس‘‘ بھی ضروری ہے۔ تاہم وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ڈیٹرنس ہر مسئلے کا حل نہیں، اور بعض اوقات کچھ اقدامات کے فوری منفی اثرات کے باوجود طویل المدتی مفادات زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ 8) صلاحیت سے زیادہ اہم ساکھ: ان کے مطابق فوجی منصوبہ ساز عموماً ہتھیاروں اور عسکری صلاحیت پر توجہ دیتے ہیں، لیکن اصل اہمیت اعتبار اور ساکھ کی ہوتی ہے۔ فوجی قوت کو دوبارہ بنایا جا سکتا ہے، مگر کھویا ہوا اعتماد آسانی سے بحال نہیں ہوتا۔ ایک غلط فیصلہ یا کمزور ارادہ لمحوں میں ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اس لیے امریکی مفادات کو درپیش چیلنجز کا بروقت جواب دینا ضروری ہے۔ 9) مؤثر پیغام رسانی: تحقیق میں کہا گیا ہے کہ متضاد بیانات، غیر محتاط سرخ لکیریں اور بیرونی تنازعات سے خائف عوام کو مطمئن کرنے کی کوششیں بعض اوقات امریکہ کے بازدارانہ پیغام کو کمزور کرتی رہی ہیں۔ اس سے ایران کو حدود آزمانے کا موقع ملا۔ آیزنشتات کے مطابق خارجہ سطح پر واضح اور مضبوط پیغام رسانی اور اندرونِ ملک بیانیے میں ہم آہنگی نہایت اہم ہے۔ 10) معلومات افشا کرنے کی حدود: کبھی کبھار ایران کی عسکری صلاحیتوں سے متعلق معلومات منظر عام پر لانا بھی اسے کسی اقدام سے روک سکتا ہے، خاص طور پر اگر اس سے اس کی کامیابی کے امکانات متاثر ہوں۔ تاہم مصنف خبردار کرتے ہیں کہ ایسی صورت میں بھی ایران غیر متوقع قدم اٹھا سکتا ہے۔ 11) متنوع حکمت عملیاں اور ذرائع: امریکی فوج عموماً تباہی اور براہِ راست حملوں پر انحصار کرتی ہے، مگر بعض اوقات کم شدت کے، غیر مہلک ذرائع زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ لاگت تو بڑھاتے ہیں لیکن کشیدگی کے خطرے کو کم رکھتے ہیں۔ طاقت کے استعمال کے متنوع آپشنز اور مختلف میدانوں میں کارروائی کی صلاحیت ڈیٹرنس کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ 12) ماضی کے اسباق اور مستقبل کے چیلنجز: آیزنشتات کے مطابق سات اکتوبر کے بعد کے حالات نے ایران کے حمایت یافتہ ’’مزاحمتی محور‘‘ کے مقابلے میں امریکہ اور اسرائیل کے تعاون کے فوائد کو واضح کیا ہے۔ ان کے بقول مشترکہ کوششوں سے تنازعات کے دائرہ، شدت اور مدت کو محدود رکھا جا سکتا ہے اور ایران کی عسکری اور جوہری سرگرمیوں کو روکا جا سکتا ہے۔
  وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر امریکہ روایتی ڈیٹرنس اور کشیدگی کے انتظام کی صلاحیت بہتر بنا لے تو وہ مستقبل میں روس، چین اور شمالی کوریا جیسے چیلنجز کا بہتر مقابلہ کر سکے گا۔ ان کے مطابق ایران کے مقابلے میں کامیابی، چین اور روس کے خلاف حکمت عملی میں بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر اس تحقیق میں امریکہ کو ایران کے خلاف جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی پوزیشن مستحکم کی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ اور اس کے مقابلے میں ڈیٹرنس پاور ان کے مطابق کرتے ہیں کہ میں امریکہ غیر متوازن اور کشیدگی جا سکتا ہے بعض اوقات حکمت عملی امریکہ کے کی صلاحیت کہ ایران ایران کو ایران کے ایران کی چین اور کرنے کی میں بھی کے خلاف کے لیے جنگ کے اس لیے جا سکے گیا ہے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار