پی ایچ ایف نے قومی کھیل کی بحالی اور اصلاحات کیلئے نئی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دیدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پی ایچ ایف نے قومی کھیل کی بحالی اور اصلاحات کیلئے نئی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دیدی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف)نے ہاکی کے انتظام اور گورننس میں اصلاحات کے تحت ایک ایڈہاک گورننس اور مینجمنٹ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد کھیل کے معیار کو بلند کرنا اور جدید نظم و نسق کو متعارف کرانا ہے۔کمیٹی کی سربراہی کے لیے لیجنڈری اولمپیئنز حسن سردار اور اصلاح الدین کو منتخب کیا گیا ہے، جو پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی مشترکہ قیادت کریں گے، ان کی ذمہ داریوں میں قومی ٹیم کے انتخاب، تربیتی پروٹوکولز کی نگرانی اور کوچز و کھلاڑیوں کے لیے معیار کا تعین شامل ہے۔
طویل مدتی انتظامی فیصلے پروفیشنل ایڈوائزری کمیٹی کے ذریعے کیے جائیں گے، جس کی سربراہی بھی حسن سردار اور اصلاح الدین کریں گے، جبکہ دیگر ارکان کی تقرری ان کی مشاورت سے ہوگی۔خصوصی نگرانی اور منظم عمل کے لیے پی ایچ ایف نے کارپوریٹ گورننس، مارکیٹنگ اور وسائل کی فراہمی کو ہاکی کے تکنیکی امور سے الگ کردیا ہے۔نئے مقرر کردہ ارکان میں کیپٹن فرخ عتیق (ہیومن ریسورس اور فنانس)، شکیل شاہ(محکمانہ ہم آہنگی اور آوٹ ریچ)، عامر ابراہیم(کارپوریٹ اور مارکیٹنگ سپورٹ(، غلام علی ملاح (سکول و کالج سطح پر کھیلوں کی ترقی)، اور بریگیڈیئر (ریٹائرڈ)اکمل عزیز (سروسز اور ادارہ جاتی ہم آہنگی)شامل ہیں۔ تمام ارکان اعزازی بنیادوں پر خدمات انجام دیں گے۔پی ایچ ایف کے ترجمان نے کہاکہ یہ عبوری اقدامات ہاکی میں واضح سمت فراہم کرنے اور کھیل کو گراس روٹ سطح تک مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی کا کوئی مختصر راستہ نہیں، لیکن واضح سمت اور محنت جلد نتائج لائے گی۔یہ اقدامات شفافیت اور پیشہ ورانہ میرٹ کو فروغ دینے کی کوشش ہیں تاکہ پاکستان ہاکی عالمی سطح پر واپسی کے لیے ضروری تکنیکی اور کارپوریٹ مہارت حاصل کر سکے۔فیڈریشن کا کہنا ہے کہ نئی کمیٹی کے قیام سے کھیل میں مثبت تبدیلی آئے گی اور پاکستان ہاکی کا کھویا ہوا وقار بحال ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کیلئے قوم افواج پاکستان کیساتھ ہے، گورنر پنجاب سلیم حیدر خان دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کیلئے قوم افواج پاکستان کیساتھ ہے، گورنر پنجاب سلیم حیدر خان بنگلہ دیش میں انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 12مارچ کو طلب ایران عالمی طاقتوں کے دباو پر کبھی سر نہیں جھکائے گا، صدر مسعود پزشکیان اقوامِ متحدہ کا امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پر اظہار تشویش، تنازع کے حل کیلئے سفارتکاری پر زور ایم کیو ایم نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد کو آئین سے متصادم قرار دیدیا بھارتی لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس گر کر تباہCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی ایچ ایف نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔