گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی کو جلد آپریشنل کردیا جائے گا، نگراں وزیراعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
نگراں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی کو جلد آپریشنل کردیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گلگت بلتستان کے نگراں وزیراعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد خان نے ملاقات کی۔ اس دوران گلگت بلتستان میں انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی، امن و امان کی صورتحال اور سیاحت کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نگراں وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی کو جلد آپریشنل کیا جائے گا، جس پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یقین دہانی کرائی کہ سی ٹی ڈی کو جدید ٹیکنالوجی اور اسلحہ کے حوالے سے بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی اور گلگت بلتستان کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ انتخابات کے دوران اضافی نفری فراہم کی جائے گی اور امن و امان ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ اور پُرامن ماحول سیاحت کے فروغ کی بنیادی ضرورت ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل گلگت بلتستان میں نگراں وزیراعلی سی ٹی ڈی کو جائے گا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔