پنجاب :سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام کے تیسرے مرحلے کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-15
لاہور(آن لائن)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا باضابطہ افتتاح کر دیا اور قرعہ اندازی کے عمل کا آغاز کیا۔ تقریب کے دوران کامیاب کاشتکاروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ نے خوش نصیب کسانوں کو ٹیلی فون کر کے مبارکباد بھی دی۔ وزیراعلیٰ نے بہاولپور کے کاشتکار حمزہ لیاقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کی سی ایم مریم نواز بول رہی ہوں، قرعہ اندازی میں آپ کا ٹریکٹر نکل آیا، مبارک ہو۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم سے صوبے کا زرعی لینڈ اسکیپ تیزی سے بدل رہا ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کسانوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 25 برس میں 20 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے جبکہ صرف دو سال میں 31 ہزار ٹریکٹر دینے کا ریکارڈ قائم ہوا۔ سی ایم گرین ٹریکٹر اسکیم کے پہلے دو مراحل مکمل ہو چکے ہیں جن کے تحت 21 ہزار ٹریکٹر دیے جا چکے ہیں، جبکہ تیسرے مرحلے میں 50 سے 65 ہارس پاور کے مزید 10 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے جائیں گے۔صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے بتایا کہ تیسرے فیز کے لیے 4 لاکھ 27 ہزار پانچ ایکڑ کے مالک کاشتکاروں نے درخواستیں جمع کرائیں۔ بریفنگ کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں ملک میں ٹریکٹروں کی قیمتیں دگنی سے زائد ہو چکی ہیں جس کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے مکمل قیمت پر ٹریکٹر خریدنا مشکل ہو گیا تھا۔حکام کے مطابق پنجاب میں ہر 10 ہزار ایکڑ اراضی پر 140 ٹریکٹر دستیاب ہیں جو دیگر ممالک کے مقابلے میں پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید زرعی مشینری کے فروغ سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور کسانوں کو معاشی استحکام حاصل ہوگا۔
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سی ایم گرین ٹریکٹر اسکیم فیز تھری کاآغاز کررہی ہیں
خبر ایجنسی
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سی ایم گرین ٹریکٹر ہزار ٹریکٹر
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔