وزیراعلی پنجاب نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3کا باقاعدہ افتتاح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
وزیراعلی پنجاب نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3کا باقاعدہ افتتاح کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے قرعہ اندازی کا آغاز کر دیا۔اس موقع پر وزیراعلی کا کہنا تھا کہ گرین ٹریکٹر سکیم کے باعث صوبے کا زرعی لینڈ سکیپ تبدیل ہو رہا ہے۔وزیر اعلی کے مطابق گزشتہ 25 برس میں 20 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے، جبکہ صرف 2 سال کے دوران پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے 31 ہزار ٹریکٹر فراہم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔
وزیراعلی نے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے کاشتکاروں کو مبارکباد دی اور بعض خوش نصیب کسانوں کو خود فون کر کے خوشخبری سنائی۔بہاولپور کے کاشتکار حمزہ لیاقت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرعہ اندازی میں آپ کا ٹریکٹر نکل آیا ہے، مبارک ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ہمیشہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز رکھی ہے اور آئندہ بھی کسان دوست پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گرین ٹریکٹر سکیم کے تیسرے مرحلے کے لیے 5 ایکڑ اراضی کے 4 لاکھ 27 ہزار مالک کاشتکاروں نے درخواستیں جمع کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں ملک میں ٹریکٹروں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جس کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے مکمل قیمت پر ٹریکٹر خریدنا مشکل ہو گیا تھا۔بریفنگ کے مطابق 2024 میں پنجاب حکومت نے زرعی مشینری کے استعمال پر خصوصی توجہ دی، سکیم کے پہلے 2 مراحل میں 21 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ تیسرے مرحلے میں 50 سے 65 ہارس پاور کے مزید 10 ہزار ٹریکٹر دیے جائیں گے۔حکام نے بتایا کہ پنجاب میں 10 ہزار ایکڑ اراضی پر صرف 140 ٹریکٹر موجود ہیں، جو دیگر ممالک کے تناسب سے 50 فیصد سے بھی کم ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب کی زرعی معیشت میں ٹریکٹر سب سے اہم مشینری ہے اور اس سکیم سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشیر افضل کی گفتگو مایوس کن، علیمہ نے مستعفی ہونے کا پیغام نہیں بھیجا، بیرسٹر گوہر شیر افضل کی گفتگو مایوس کن، علیمہ نے مستعفی ہونے کا پیغام نہیں بھیجا، بیرسٹر گوہر پی ایچ ایف نے قومی کھیل کی بحالی اور اصلاحات کیلئے نئی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دیدی دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کیلئے قوم افواج پاکستان کیساتھ ہے، گورنر پنجاب سلیم حیدر خان بنگلہ دیش میں انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 12مارچ کو طلب ایران عالمی طاقتوں کے دباو پر کبھی سر نہیں جھکائے گا، صدر مسعود پزشکیان اقوامِ متحدہ کا امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پر اظہار تشویش، تنازع کے حل کیلئے سفارتکاری پر زورCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گرین ٹریکٹر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔