Jasarat News:
2026-06-02@20:57:54 GMT

ایران رجیم چینج کی دہلیز پر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260223-03-5
امریکا عراق پر یلغار کے بعد ایک بار پھر اپنی بھرپور فوجی تیاریوں اور کیل کانٹے سے لیس ہوکر خلیج میں پہنچ رہا ہے۔ اس بار عراق کے بجائے ہدف ایران ہے۔ امریکا بحری اور ہوائی جہازوں اور جدید ترین اسلحہ کے ساتھ ساتھ پچاس ہزار زمینی فوج کے ساتھ خطے میں ڈیرہ ڈال چکا ہے۔ وہ سمندروں اور ہواؤں اور زمین ہر سمت سے ایران پر پل پڑنے کو تیار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ڈیل کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں مگر ایران ایک حد سے آگے جانے کو تیار نہیں۔ یوں دونوں کے درمیان تصادم کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایران برکس تنظیم کا اہم رکن ہے۔ برکس میں چین روس اور بھارت جیسے ممالک شامل ہیں۔ ایران پر حملے کو برکس ممالک کس انداز سے لیں گے؟ یہ سوال بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ چین اور روس یہ سمجھ رہے ہیں کہ امریکا ان کے دفاع اور اسٹرٹیجی کی تمام بیرونی پرتوں کو چیرتا ہوا ان کے قریب پہنچ رہا ہے اور ایران اس سلسلے کی آخری کڑی ہے۔ اس کے بعد صرف افغانستان ہی باقی بچتا ہے جہاں رجیم چینج کرکے امریکا خطے کا من پسند نقشہ تشکیل دے سکتا ہے۔ ایران کی نسبت افغانستان ایک آسان ہدف ہے۔ امریکا کے حملے کی صورت میں ایران کے مستقبل کا انحصار چین اور روس کے ردعمل پر ہے۔ چین کی مہارت کا میدان گوریلا جنگ ہے۔ وہ یہاں تک بھی چاہیں گے کہ امریکی فورسز ایران میں داخل ہوجائیں تاکہ ایران میں ایک گوریلا جنگ کا ماحول بن سکے۔

کہا جاتا ہے کہ پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ میں پاکستانی وفد چین سے صلاح ومشورہ حاصل کرنے لیے گیا تو چینی قیادت نے بھرپور مدد کی یقین دہانی کے ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دیا کہ بھارت پاکستان کے اندر آنا چاہتا ہے تو اسے آنے دیں اور پھر اس کی فوج کو گوریلا جنگ کے ذریعے زخم زخم کر دیں۔ یہ فارمولہ افغانستان میں تو کارگر رہا مگر ضروری نہیں دنیا میں ہر جگہ یہی اصول کامیاب رہے۔ عراق کے بارے میں بھی عمومی خیال یہی تھا کہ آپریشن ڈیزٹ اسٹارم کے دوران جب امریکی فوجی عراق کے اندر داخل ہوگی تو عراقی فوجی یا گوریلے اس اژدھے کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیں گے۔ صدام کے وزیر اطلاعات نے عراق میں امریکی فوج کے داخلے سے دو دن پہلے یہی الفاظ استعمال کیے تھے مگر بعد میں وقت نے ثابت کیا کہ عراق میں گوریلا جنگ کا تصور کامیاب نہیں ہوا اور عراقی فوج ریت کے گھروندے کی طرح ہوا میں اْڑ گئی۔ امریکا ایران میں اسی طرح رجیم چینج کرنا چاہتا ہے جس طرح افغانستان میں ملا عمر کی حکومت کو گرایا گیا تھا اور اس کے بعد جرمنی کے شہر بون میں افغان ٹینکو کریٹس کا میلہ سجا کر حامد کرزئی کی قیادت میں حکومت قائم کی گئی تھی۔

جرمنی کے خوبصورت شہر میونخ میں حال ہی میں جو عالمی کانفرنس منعقد ہوئی اس میں ایران کی متبادل قیادت کے طور رضا پہلوی کو منظر پر رکھا گیا تھا۔ رضا پہلوی نے سی این این کے زیر اہتمام ایک مذاکرے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مستقبل کے ایران کے لیے اپنا روڈ میپ پیش کیا۔ رضا پہلوی نے مستقبل کی پالیسی کے تحت اسرائیل کے ساتھ خوش گوار تعلقات کا ایجنڈا پیش کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ حال ہی میں وہ یروشلم کا دورہ کرچکے ہیں اور دیوار گریہ کے ساتھ وائرل ہونے والی تصویر انہی کی ہے۔ ایران کے مستقبل کے حکمران اپنی سی وی اسرائیل کو پیش کر چکے ہیں اور ان کی گفتگو سے صاف اندازہ ہوتا تھا کہ مستقبل کے ایران میں اسرائیل کا گہرا عمل دخل ہوگا۔ سی این این کی اینکر رضا پہلوی سے مستقبل کے ایران کے خدوخال اور پالیسیوں بارے اس انداز سے سوالات کر رہی تھی کہ یوں لگ رہا تھا کہ ان کی حکومت قائم ہونے میں چند دن باقی ہیں۔ گویا کہ امریکا رضا پہلوی کو آگے کرکے ایران کو پسپائی پر مجبو کر نے کی کوشش کررہا ہے۔ ایک ہاتھ میں ڈیل کا دعوت نامہ ہے تو دوسرے ہاتھ میں بم ہے۔ ماضی بتا رہا ہے کہ ڈیل کرکے بھی ایران کے ہاتھ کچھ نہیں؛ یہ وہ حقیقت ہے جو اپنے تجربے کی بنیاد پر لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کی جلا وطن صاحبزادی عائشہ قذافی نے ایرانی عوام کے نام ایک کھلے خط میں بیان کی تھی اور کہا تھا ایرانی بھائیو میرے والد نے بھی نیوکلیئر معاملے پر امریکا کے وعدوں پر اعتبا ر کرکے ڈیل کی تھی مگر اس کا جو نتیجہ نکلا بہت دردناک تھا۔

عارف بہار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گوریلا جنگ مستقبل کے ایران میں رضا پہلوی کے ایران ایران کے کے ساتھ رہا ہے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار