سندھ حکومت کا وفاق سے وضاحت طلب کرنے کا مطالبہ، ایم کیو ایم اور وفاقی وزرا پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور وفاقی وزرا کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے اس معاملے پر سنجیدگی سے وضاحت طلب کرے۔
صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم اور وفاقی وزرا کی طرف سے سندھ حکومت کے خلاف جاری نفرت انگیز تقاریر اور سازشیں واضح طور پر سامنے آ رہی ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتیں ایک سوچی سمجھی مہم کے تحت صوبہ سندھ اور سندھ حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں، وفاقی وزرا ہر روز سندھ کے عوام اور منتخب حکومت کے خلاف گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت ہر معاملے میں پیپلز پارٹی سے تعاون طلب کرتی ہے، جس سے تضاد اور عدم اعتماد کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کی قیادت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ وفاق سے اس تنازع پر فوری اور واضح وضاحت طلب کرے تاکہ صوبائی اور وفاقی تعلقات میں اعتماد کی فضا بحال ہو اور عوامی خدمت پر مرکوز سیاسی ماحول قائم رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت وفاقی وزرا اور وفاقی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔