گوادر کے قریب نایاب بوہیڈ گٹارفش پکڑی گئی، ماہرین کا فوری تحفظ کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوادر: بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے قریب سمندر سے نایاب اور خطرے سے دوچار سمندری مخلوق بوہیڈ گٹارفش پکڑے جانے کی اطلاع نے ماہرینِ ماحولیات میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
عالمی فطری حیات کے ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ فار نیچر نے اس نایاب مچھلی کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ نسل پہلے ہی عالمی سطح پر معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔
ادارے کے مطابق یہ مچھلی تقریباً تیس میٹر گہرے پانی سے پکڑی گئی جس کی لمبائی ایک سو چالیس سینٹی میٹر سے زائد اور وزن پینسٹھ کلوگرام سے زیادہ بتایا گیا ہے، اس نوع کی عالمی آبادی میں تقریباً اسی فیصد کمی واقع ہو چکی ہے جس کی بنیادی وجہ ضرورت سے زیادہ شکار اور غیر قانونی ماہی گیری ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر اس مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے مگر اس کے باوجود غیر قانونی شکار کے باعث اس کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ماہرین حیاتیات کے مطابق اس نسل کی افزائشِ نسل کی رفتار بہت سست ہے کیونکہ مادہ مچھلی ایک وقت میں بہت کم بچے دیتی ہے، جس کے باعث اس کی آبادی قدرتی طور پر تیزی سے بحال نہیں ہو پاتی۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں بھی اس کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو سمندری ماحولیاتی توازن کے لیے خطرے کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا ایک ہزار 800 روپے سستا ہوگیا، جس کے بعد سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 35 ہزار 636 روپے ہوگئی، اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں ایک ہزار 543 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 73 ہزار 487 روپے مقرر کی گئی ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 18 ڈالر سستا ہونے کے بعد 4 ہزار 96 ڈالر پر آگیا۔