Jasarat News:
2026-06-03@06:52:08 GMT

پریم یونین کے تحت نجکاری کے خلاف احتجاجی جلسہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT

پریم یونین کے تحت نجکاری کے خلاف احتجاجی جلسہ

پاکستان ریلوے پریم یونین نے حکومت کی طرف سے ریلوے کی نجکاری کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ’’ریلوے کی نجکاری، نامنظور‘‘ کے سلوگن کے تحت پریم یونین کے مرکزی صدر شیخ محمد انور کی اپیل پر پشاور، کندیاں، راولپنڈی، لاہور، خانیوال، ملتان، رحیم یار خان، روہڑی، سکھر، نواب شاہ، کراچی، کوئٹہ، دالبندین اور مچھ سمیت دیگر چھوٹے بڑے اسٹیشنوں پر ملک بھرکے تمام ریلوے اسٹیشنوں اور ڈویڑنل ہیڈکوارٹر آفس کے باہر احتجاجی جلسے کیے اور دھرنے دیے۔ لاہور میں بھی ریلوے ملازمین نے ڈی ایس آفس کے باہر احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ ملازمین نے ریلوے کی نجکاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدیدنعرہ بازی کی۔ اس موقع پر پریم یونین کے مرکزی صدر شیخ محمد انور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ ریلوے اور افسر شاہی کی غلط منصوبہ بندی نے ریلوے کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ بار بار کرائے بڑھانے سے آمدن کو بڑھایاجارہا ہے جس سے پاکستان کی غریب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مختلف سیکشنوں پر ٹرینیں بند ہونے کی وجہ سے کروڑوں ڈالرز کا ٹریک تباہ ہورہا ہے اور ریلوے کی زمینوں پر دن بدن ناجائز قبضے ہوتے جارہے ہے۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے رولنگ سٹاک مینٹینینس نہ ہونے کی وجہ سے کوچیں تباہ و برباد ہورہی ہیں۔ ٹرین سروس کو بند کردیاگیاجوکہ ریلوے انتظامیہ کی نااہلی کا ثبوت ہے۔ اسی وجہ سے آئے دن ریلوے میں ڈی ریلمنٹ ہورہی ہیں اور مسافر حضرات ٹرین میں سفر کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج 2019ء سے ملازمین کا ٹی اے، ڈی اے بند ہے۔ گریجویٹی، انکیشمنٹ، جی پی ایف کا حصول شجرممنوعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل اے ملازمین کو برطرف کرنے کے بجائے کنٹریکٹ پر رکھے گئے افسران اور ایم پی ون سکیل کے تمام کنبے کو ریلوے سے فی الفور فارغ کیا جائے۔ ٹی ایل اے ملازمین اور انویلڈ ملازمین کو ریگولر کیا جائے۔ اسٹاف کی کمی کی وجہ سے ریلوے ملازمین انڈر ریسٹ ڈیوٹیاں کررہے ہیں جوکہ کسی بھی وقت خوفناک حادثے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزارت ریلوے کی نااہلی کی وجہ سے ریلوے انتظامیہ حکومت کو ریلوے کاکیس صحیح طریقہ سے پیش نہیں کرسکی جس کی وجہ سے حکومت نے ریلوے کو نان ایسینشل کیٹگری میں ڈال دیاہے۔ وزیر اعظم سے اپیل ہے اس فیصلہ پر نظرثانی کی جائے۔

شیخ محمد انور نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ریلوے کے نگران وزیر بھی ہیں لیکن ان کی توجہ ریلوے پر بالکل بھی نہیں جس کی وجہ سے ریلوے کا نظام دن بدن خراب ہوتاجارہاہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستان ریلوے کو پی آئی اے اور اسٹیل مل سے نہ ملایاجائے۔ وہ دونوں ادارے ایک ہزار، دوہزار ارب کے خسارے میں جارہے ہیں جبکہ ریلوے کا خسارہ صرف 50 ارب روپے ہے۔ اورنج لائن، بینظیر انکم سپورٹ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرح ریلوے کو بھی مالی امداد دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جدوجہد سے عوام کے اندر نیا حوصلہ اور روشن مستقبل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ایماندار اور نڈرقیادت ہی مزدوروں کے مسائل حل کرواسکتی ہے،جماعت اسلامی ریلوے مزدوروں کے ساتھ کھڑی ہے۔حافظ نعیم الرحمن عوامی توقعات پر پورااتریں گے اورمزدوروں کو ان کا حق لے کردیں گے۔ وزارت ریلوے نے ریکارڈ آمدنی کے باوجود اپنی نااہلی سے ریلوے کو بسترمرگ پر پہنچا دیاہے۔ مہنگائی اور بے روز گاری نے عوام سے راتوں کی نیند چھین لی ہے، حکومت نے بیڈ گورننس کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں،عوام نے موجودہ اور سابق حکمرانوں سے جو توقعات اور امیدیں وابستہ کی تھیں وہ مایوسی میں بدل گئی ہیں۔

اس موقع پر پریم یونین کے سینئر نائب صدر عبدالقیوم اعوان، مرکزی چیف آرگنائزر چوہدری خالد محمود، لاہور ڈویژن کے صدر شیخ فیاض شہزاد، ہیڈکوارٹر ڈویڑن کے صدر ناصر خان اور دیگر قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے رفاعی و فلاحی ادارے کی نجکاری ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے۔ دراصل حکمرانوں کی نظریں ریلوے کی قیمتی زمینوں پر لگی ہوئی ہیں۔ ملازمین ریلوے کو بچانے کے لیے اپنا خون بہا دیں گے مگر کسی کو بھی نجکاری کے نام پر ریلوے کی لوٹ مار کی اجازت نہیں دیں گے۔ ریلوے ملازمین کے جذبہ کوشکست نہیں دی جاسکتی۔ پریم یونین نے حافظ سلمان بٹ مرحوم کی قیادت میں ریلوے ملازمین کے حقوق کی جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا اسے ہر حالت میں جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے کے کھربوں روپے کے اثاثہ جات کو لوٹنے کی تیاری کی جارہی ہے، ریلوے قومی وحدت کا ادارہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر ریلوے نے 88 ارب سے زائد ریکارڈ آمدن حاصل کی ہے جو پچھلے مالی سال سے 40 فیصد زائد آمدن ہے۔ ریلوے کو مالی سال کے آغاز میں حکومت سے 73 ارب آمدن کا ٹارگٹ ملا تھا۔ اتنی آمدن کمانے والے ادارے کی نجکاری ملک کی سالمیت کے خلاف سازش ہے۔انہوں نے کہاکہ ریلوے کو پرائیویٹائز کرنے کے بجائے مزدوروں کے حوالے کردیا جائے،کسی بھی پرائیویٹ کمپنی سے زیادہ منافع فراہم کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ نئے پنشن اور گریجوٹی کے قانون کو ختم کرکے پرانا نظام ہی بحال کیا جائے۔

پاکستان ریلوے پریم یونین کے زیر اہتمام ریلوے کی نجکاری اور پنشن رولز کے خلاف ریلی کے شرکاء سے مرکزی صدر شیخ انور اور شیخ فیاض شہزاد و دیگر قائدین خطاب کررہے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ریلوے کی نجکاری ریلوے ملازمین پریم یونین کے انہوں نے کہا کرتے ہوئے نجکاری کے کی وجہ سے سے ریلوے ریلوے کو کے خلاف کہا کہ

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا