پاکستان کا بھارت کو زبردست جواب
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
پاکستان نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد نئی دہلی کے جارحانہ اقدامات کے بعد کشیدگی میں اضافہ کرتے ہوئے، جمعرات کو تمام ہندوستانی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا، جس میں اس ہفتے کے شروع میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے باضابطہ طور پر ایئرمین کو نوٹس (نوٹام) جاری کیا، جس میں بھارتی رجسٹرڈ ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کی تصدیق کی گئی۔
اس اقدام سے ہندوستانی کیریئرز پر شدید اثر پڑنے کی توقع ہے، جو روزانہ متعدد اوور فلائٹس کے لیے پاکستانی فضائی حدود پر انحصار کرتے ہیں، جس میں ہندوستان کے بڑے شہروں جیسے دہلی، ممبئی، احمد آباد، گوا، اور لکھنؤ سے مشرق وسطیٰ، یورپ اور اس سے آگے کی منزلوں تک کے راستے شامل ہیں۔
ہندوستانی میڈیا کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایئر انڈیا، انڈیگو، ایئر انڈیا ایکسپریس، اور اسپائس جیٹ نے تصدیق کی ہے کہ ان کی پروازیں اب لمبے راستوں پر چلیں گی، بنیادی طور پر بحیرہ عرب کے اوپر، جس کی وجہ سے سفر کے اوقات میں اضافہ ہوگا۔
حکومت پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستان نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق نوٹام NOTAM بھی جاری کردیا۔
جس کے تحت پاکستانی فضائی حدود کو آرمی کیریئر سمیت تمام بھارتی پروازوں کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
کیونکہ بین الاقوامی فضائی قوانین کا سب سے اہم ماخذ شکاگو کنونشن 1944 کے تحت بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) قائم کی گئی۔ اس کنونشن کے protocol کے تحت ممالک کو اپنی فضائی حدود پر مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔
ہر ملک قومی سلامتی،جنگ یا فوجی کشیدگی، سیاسی یا سفارتی تنازع، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی پر اپنی فضائی حدود میں کسی بھی ملک کی پرواز کو اجازت دینے یا نہ دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایسی پابندی لگانے سے پہلے عام طور پر بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن اور دیگر ممالک کو NOTAM کے ذریعے آگاہ کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں ہندوستانی طیاروں کے لیے پاکستان نے اپنی فضائی حدود بند کردی تھی، خاص طور پر 2019 میں، پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد جس میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ یہ بندش تقریباً پانچ ماہ تک جاری رہی، اور اس نے ہندوستانی ایئر لائنز کو بری طرح متاثر کیا، خاص طور پر یورپ، شمالی امریکا اور مشرق وسطیٰ کے لیے طویل فاصلے کی پروازوں کو۔
پچھلی فضائی حدود کی بندش کا اثر:
مالی نقصان: آپریشنل پیچیدگیوں اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے ہندوستانی کیریئرز کو مجموعی طور پر تقریباً ₹700 کروڑ کا نقصان ہوا۔
ایئر لائنز متاثر: ایئر انڈیا، انڈیگو، اسپائس جیٹ، اور گو ایئر متاثر ہونے والی ایئر لائنز میں شامل تھے، پاکستان نے ماضی میں ہندوستانی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی، خاص طور پر 2019 میں، پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد جس میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بندش تقریباً 5ماہ تک جاری رہی، (26 فروری سے 16 جولائی 2019 تک) اور اس نے ہندوستانی ایئر لائنز کی چیخیں نکال دیں خاص طور پر وہ فلائٹس جو یورپ، شمالی امریکا اور مشرق وسطیٰ کے لیے مختص تھیں بڑی متاثر ہویں۔
فلائٹ میں خلل: پروازوں کو 4متبادل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں، جس کے نتیجے میں پرواز کا وقت زیادہ ہوتا ہے، ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہوتا ہے، اور ممکنہ کرایہ بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اپنی فضائی حدود کو ہندوستانی کیریئرز کے لیے بند کرنے سے ہندوستانی ہوابازی پر خاصا اثر پڑے گا، خاص طور پر شمالی امریکا، برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ جانے والی پروازوں کے لیے۔
فلائٹ کا وقت اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ۔
ہندوستانی ایئر لائنز کو متبادل راستے اختیار کرنے ہوں گے، جس سے پرواز کی مجموعی مدت اور ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہوگا۔ مثال کے طور پر، امریکا اور یورپ کے لیے ایئر انڈیا کی پروازیں اب طویل راستے اختیار کریں گی، جس سے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
زیادہ آپریشنل اخراجات:
اضافی ایندھن کی کھپت اور پرواز کا طویل وقت ہندوستانی ایئر لائنز کے لیے آپریشنل اخراجات میں اضافے کا باعث بنے گا۔ اندازوں کے مطابق، 2019 کی فضائی حدود کی بندش کے دوران اکیلے ایئر انڈیا کو ₹491 کروڑ کا نقصان ہوا۔
ہوائی کرایوں میں ممکنہ اضافہ:
بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے، ایئر لائنز ہوائی کرایوں میں اضافہ کرسکتی ہیں، جس سے مسافروں کے لیے پروازیں زیادہ مہنگی ہوجائیں گی۔
فلائٹ شیڈولز پر اثر:
فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے کچھ پروازوں میں تاخیر یا شیڈول میں تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔
مالی نقصان:
ہندوستانی کیریئرز کو اہم مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جیسا کہ 2019 کی فضائی حدود کی بندش کے دوران کروڑوں کا نقصان ہوا۔ بندش کی مدت ان نقصانات کی حد کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
فضائی حدود کی بندش جموں و کشمیر کے پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ صورت حال غیر مستحکم ہے، اور بندش کی مدت غیر یقینی ہے۔
اس سے قبل جب پاکستان نے فضائی حدود بند کی تو اس نے بھارت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ پاکستان کو بھی نقصان ہوگا مگر اس وقت صورتحال مختلف تھی اب صرف پی آئی اے بھارتی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے صرف کوالالمپور کے لیے پرواز کر رہی ہے جبکہ اس وقت افغانستان کی فضائی حدود بھی بند ہے۔
یورپ سے آنے والی انڈیا کی فلائٹس چین ناردرن روٹ اور ایسٹرن روٹس کا لمبا روٹ استعمال کرے گی۔ کینیڈا اور متحدہ عرب امارات کی پروازوں کے لیے ان کو پرشین گلف کا لمبا روٹ استعمال کرنا پڑے گا جس پر نہ صرف بہت زیادہ لاگت آئے گی بلکہ دو سے 8 گھنٹے اضافی ایندھن اور دیگر اخراجات کا نقصان ہوگا۔
آپریشن کے اضافی اوقات کے لیے، اسے عملے کے دو مزید سیٹ بھی لینے پڑیں گے۔ ہوابازی کے ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کو نقصان ہوگا لیکن بھارت کو پاکستان سے زیادہ نقصان ہوگا۔
پاکستان سول ایوی ایشن کے سابق ڈائریکٹر زاہد بھٹی کا کہنا ہے کہ بھارت کو پاکستان سے اس کارروائی کی توقع نہیں تھی اور وہ دوسرے ممالک کے ذریعے پاکستان سے رجوع کرے گا کہ وہ اس صورت حال کو لمبا نہ کرے۔
اگلے دو ہفتے انتہائی اہم ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ عرب ممالک کا کیا ردعمل ہوگا کیونکہ وہ پڑوسی ممالک ہیں لیکن یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ عرب ایئر لائنز کو اس پابندی سے کیا فوائد حاصل ہوں گے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستانی ایئر لائنز اپنی فضائی حدود بند فضائی حدود کی بندش ہندوستانی کیریئرز سول ایوی ایشن بین الاقوامی پاکستان نے ایئر انڈیا نقصان ہوگا میں اضافہ کی پرواز بھارت کو کا نقصان اور اس کے لیے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب