لندن، پاکستان اور کشمیری کمیونٹی کا بھارت کے خلاف احتجاج، ملی نغموں کی گونج
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تازہ کشیدگی کے اثرات برطانیہ میں بھی پہنچ گئے، بھارتی شہریوں کے پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کے خلاف پاکستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
اس مظاہرہ کے خلاف برطانیہ میں پاکستان اور آزاد کشمیر سے متعلق کمیونٹی نے کاؤنٹر مظاہرے کا اہتمام کیا، پاکستانیوں اور برطانوی کشمیری کمیونٹی نے ملی نغموں اور قومی ترانوں کی گونج سے بھرپور ملی یگانگت اور یکجہتی کا مظاہرے سے جواب دیا۔
پاکستانی اور کشمیری مظاہرین جو لندن، لوٹن اور بعض دیگر جگہوں سے لندن پہنچے تھے، انہوں نے ہائی کمیشن کے باہر جمع ہوکر بھارت کی آبی جارحیت، کشمیری عوام پر مظالم اور خطے میں دہشت گردی کے اقدامات کے خلاف آواز بلند کی۔
بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستانی دفاعی صلاحیت کی علامت Tea is Fantastic کے نعرے سے بھی بھارتی مظاہرین کو جواب دیا گیا اور انہیں نندن کی یاد دلائی گئی۔
واضح رہے کہ پاکستان ہائی کمیشن لندن کے باہر بھارتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کی جانب سے ڈرامہ رچانے کی کوشش کی گئی، تاہم لندن پولیس نے مظاہرین کو منتشر کردیا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان اور کے خلاف
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔