Express News:
2026-06-03@03:13:19 GMT

بھارتی فسطائی عزائم اور آبی جنگ

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

وزیراعظم شہباز شریف نے ہر طرح کی دہشت گردی کی شدید مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمے دار ملک ہونے کے ناتے پہلگام واقعہ کی کسی بھی غیرجانبدارانہ، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات میں شرکت اور تعاون کے لیے تیار ہے۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کے لیے بہت سی قربانیاں دیں، ہم اس کا دفاع کرنا جانتے ہیں، دو قومی نظریہ ہمیشہ سے پاکستان کے وجود کی بنیاد رہا ہے۔

 پاک بھارت حالیہ کشیدگی کو اہم علاقائی اور عالمی قوتیں تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہیں کیونکہ ان دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی سے عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے بعض رپورٹس کے مطابق بعض اہم ممالک نے کشیدگی کو کم کرنے کی بیک ڈور کوششوں کا آغاز کر دیا ہے اور بھارت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی قسم کی جارحیت سے باز رہے، لیکن اس تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے اور خطے کو غیر معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 بھارت ہمیشہ اپنی داخلی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش کرتا آیا ہے۔ جہاں تک اس امرکا سوال ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان کے خلاف جارحیت کرسکتی ہے تو بھارت پاکستان کے حوالے سے اچھی طرح جانتا ہے کہ اس پر جارحیت مسلط کرنا خود کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے امکانات کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بھارت اس حوالے سے خود کفیل ہے اور دہشت گردی کا متعدد ممالک میں مرتکب ہو چکا ہے، ہمیں بھارت سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے اور پہلگام واقعے کے حقائق منظر عام پر آنے کے بعد اس پر جھنجلاہٹ اور بوکھلاہٹ طاری ہے اور خود کو اس پریشان کن صورتحال سے نکالنے اور اپنی عوام کے سامنے سرخرو ہونے کے لیے پاکستان کے کسی شہر یا مقام میں دہشت گردی کا مرتکب ہو سکتا ہے جس کے لیے ہمیں ابھی سے تیاری کی ضرورت ہے۔

 بھارت اسلامو فوبیا اور آر ایس ایس کے انتہا پسند ہندو توا نظریے کو ہوا دے کر ملک میں جاری آزادی کی تحریکوں کو دبانا چاہتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ بھارتی میڈیا اور حکومت جعفر ایکسپریس پر حملے جیسے واقعات کے پیچھے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور ایسے حملوں کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے خوشیاں منانا اس کے مکروہ عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔

بھارتی پروپیگنڈہ مشینری ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ پاکستان پر نام نہاد ’’دہشت گردی‘‘ کے الزامات لگا کر بھارت اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے دنیا کی آنکھیں چرانے کے لیے ہر محاذ پر پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔

 بھارتی جنتا پارٹی دراصل راشٹریہ سیوک سنگھ کا سیاسی بازو ہے جو کہ مقبوضہ کشمیر میں رام راج کا نفاذ چاہتی ہے، آئین میں اس کا سرکاری نام بھارت ہے، ہندوستان نہیں اور بھارت کو ایک سیکولر ملک کا درجہ دیا گیا تھا، مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع علاقہ ہے، جہاں اس نے رائے شماری کرانے کا حکم دے رکھا ہے اور بھارت پچھتر سالوں سے اس پر مسلسل ٹال مٹول کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے اور بھارتی فوجی ان کو شہید کرنے کے بعد جشن مناتے ہیں۔ مودی کو گجرات کے قصاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ماضی میں امریکا نے بھی اس کی دہشت گردانہ پالیسیوں کے باعث اس کے امریکا داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی، وہ شروع سے ہی مسلم دشمن رہا ہے۔

 بھارت پاکستان میں خصوصاً بلوچستان اور فاٹا میں دہشت گردی کی کارروائیاں کروا رہا ہے، جن میں اب تک80ہزار افراد شہید ہوچکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو پاکستان میں ان کارروائیوں کا اعتراف بھی کرچکا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی ایشیا کے ان دو ممالک کے تعلقات کھبی بھی مثالی نہیں رہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر مداخلت کے الزامات لگاتے آرہے ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ پاکستان مذکورہ واقعے میں ایک ایسے وقت میں کیونکر ملوث ہونے کا رسک لے گا جب کہ اسے خود نہ صرف یہ کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا سامنا ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی دہشت گردی کے معاملے پر اس کے تعلقات کشیدگی کی حد کو چھو رہے ہیں؟ ماہرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سات سے نو لاکھ تک کی بڑی فوج رکھنے کے باوجود بھارت سے معاملات کنٹرول نہیں ہونے پارہے اور اس قسم کے واقعات سے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کا فائدہ اٹھا کر بھارت اپنی ناکام پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔کچھ عرصہ قبل راہول گاندھی نے اپنے ایک خطاب میں مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی ’’جیل ’’قرار دیتے ہوئے مودی سرکار کو جاری کشیدگی اور حالات کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر میں انسانی حقوق اور اظہار رائے کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں جس نے بھارت کے سیکولر امیج کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ متعدد دیگر مین اسٹریم لیڈرز بھی حالات کی ذمے داری مودی سرکار پر ڈالتے آرہے ہیں۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان آبی دہشت گردی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سخت خلاف ورزی ہے اس سے قبل بھی بھارت کشمیر سے بہنے والے دریاؤں پر غیر قانونی ڈیم بنا کر آبی جارحیت کا مرتکب ہوچکا ہے اور مسلسل پاکستان کو دھمکیاں دے کر خطے میں اپنی بلا دستی کے خواب دیکھ رہا ہے جس کا بھارت کا جنگی جنون اور توسیع پسندانہ عزائم سے علاقائی امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ بھارت کی تخریبی سرگرمیوں اور ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں قیام امن مسلسل ایک خواب بنا ہوا ہے۔ بھارت کی فالس فلیگ آپریشنز پہلے سے غیر مستحکم علاقائی صورتحال کو مزید ابتر بنارہے ہیں۔

بھارت نے پہلگام حملے کو بہانہ بنا کر نہ صرف سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کو معطل کردیا ہے بلکہ پاکستان کا پانی روکنے کے لیے تین مرحلوں پر مبنی خطرناک منصوبہ بھی شروع کر دیا ہے۔ پہلگام حملے کو جواز بنا کر بھارتی حکومت نے وہ سازش شروع کی ہے جس کا مقصد پاکستان کی زرعی، معاشی اور ماحولیاتی بنیادوں کو کمزور کرنا ہے۔

یہ بھارتی اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انڈس واٹرز ٹریٹی کی کھلی توہین بھی ہے، بھارت نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو ’’معطل‘‘ کرنے کا اعلان کر کے اپنے جارحانہ عزائم دنیا کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت کا منصوبہ جنوبی ایشیا میں آبی جنگ کا آغاز کرسکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ، عالمی بینک اور دیگر عالمی اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کو اس غیرقانونی اور اشتعال انگیز اقدام سے باز رکھیں۔ پاکستان کے عوام اور قیادت ایک بار پھر بھارت کو بتا دینا چاہتے ہیں’’ پانی ہمارا حق ہے، اور اس حق پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘‘

 پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس کم ازکم ڈیڑھ سو ایٹمی وار ہیڈز ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے تقریباً تمام بڑے شہروں کو تباہ کرسکتے ہیں، اگر جنگ ہوتی ہے تو ماہرین کے مطابق ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے تقریباً13کروڑ افراد موت کے منہ میں جاسکتے ہیں، واضح رہے کہ دوسری جنگ عظیم میں 5کروڑ افراد مرے تھے، جنگ کی صورت میں بھارت کی آبادی اور علاقہ زیادہ ہونے کے باعث وہاں زیادہ نقصانات کے امکانات ہیں، لہٰذا اس کو زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے، ترقی یافتہ دنیا بھی اس مسئلہ سے غیر متعلق نہیں رہ سکتی، کیونکہ جنگ کے اثرات سے نہ صرف دنیا میں شدید موسمی تبدیلیاں آئیں گی بلکہ زمینی پیداوار بھی30 فیصد تک کم ہوجائے گی، دونوں ممالک کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مل جل کر حق و انصاف کے اصولوں کے مطابق اپنے مسائل طے کریں، ایک دوسرے کو دھمکیاں نہ دیں اور اکٹھے ہوکر غربت کے خلاف لڑیں، یورپ نے چار سو سال جنگیں لڑنے کے بعد بالآخر اس راز کو پا لیا کہ جنگیں تباہی کے سوا اورکچھ نہیں لاتیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دونوں ممالک پاکستان کے اور بھارت بھارت کو ممالک کے کہ بھارت کے مطابق بھارت کی رہے ہیں کے لیے رہا ہے کے بعد دیا ہے ہے اور

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی