پہلگام فالس فلیگ آپریشن: بھارتی جنگی جنون کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام ظلم و جبر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد مودی کا جنگی جنون عروج پر ہے جس کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام مودی اور بھارتی فوج کے ظلم و جبر کا شکار اور خوف و ہرس میں مبتلا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ: پاکستان کے خلاف مہم جوئی سے انکار پر بھارتی فوج کے جنرل کی چھٹی
مقبوضہ کشمیر کے عوام نے جنگ کے خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات شروع کردیے ہیں۔ ان کے علاقے میں نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر کرفیو کا سماں ہے۔
بھارتی فوج کی جانب کشمیری رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ظالم بھارتی فوج نے نہتے کشمیروں کو ان کے گھروں تک محدود کردیا ہے۔
مزید پڑھیے: عینی شاہد نے پہلگام واقعے سے متعلق بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب کردیا
مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے کے موجودہ حالات میں کشمیری مسلمانوں کو پریشانی کا سامنا ہے اور شہری بھارتی فوج کی جانب سے نام نہاد سرچ آپریشن اور چیکنگ کے سبب خوف میں مبتلا ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کے محاصرے کے باعث کرفیو کا سماں پیش کر رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی فوج کے اقدامات اس کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کا کام صرف مسلمانوں کو ہراساں کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: پہلگام حملے کے 5 منٹ بعد پاکستان پر الزام نامناسب، دنیا پاک بھارت کشیدگی کم کرائے، سابق امریکی نائب وزیر خارجہ
ماہرین نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام کو ہراساں کرنا بھارتی فوج کا وطیرہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارتی فوج فالس فلیگ آپریشن مقبوضہ کشمیر مقبوضہ کشمیر کے عوام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بھارتی فوج فالس فلیگ ا پریشن مقبوضہ کشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی فوج کے
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین