لائن آف کنٹرول پر فائنگ کا جواب؛ پاکستان نے بھارت کے کئی مورچے اڑا دیئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
سٹی42: انڈیا کے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام واقعہ کے فوراً بعد سے اندیا نے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کر رکھی ہے۔ پاکستان انڈین مورچوں سے کی جانے والی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دے رہا ہے۔ اب اطلاعات آئی ہیں کہ ایل اوسی پرجاری کشیدگی اور فائرنگ کے تبادلہ کے دوران دونوں اطراف کے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرلز ( ڈی جی ایم اوز) کی ہاٹ لائن پربات چیت ہوئی ہے۔
بس سٹاپس پر پنکھوں، الیکٹرک واٹر کولر کی چوری کو روکنے کا نیا حل
ایک انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا ہاٹ لائن رابطہ ہوا ہے۔ دونوں دونوں اطراف نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر بات کی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 29 اور 30 اپریل کی درمیانی شب بھارت نے ایل او سی پر سیز فائر کی ایک بار پھر وائلیشن کی۔ بھارت کی جانب سے ایل او سی کے کیانی اور منڈل سکیٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔
پاکستان ائیر فورس کی بروقت کارروائی،بھارتی رافیل طیارے راہ فرار اختیار کر گئے
بھارت کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ میں چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس پر پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فوج کو منہ توڑ جواب دیا اور ایل او سی پر دشمن کے مورچوں کو خاموش کروا دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے موثر جواب سے دشمن کے متعدد مورچے تباہ ہونے کیتصدیق ہوئی ہے، مقبوضہ کشمیر میں ایل او سی پر بھارتی چکپترا پوسٹ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔