محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر صدر آزاد کشمیر کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اپنے پیغام میں بیرسٹر سلطان محمود کا کہنا تھا کہ یہ دن ملک کی معاشی ترقی کے لیے مزدوروں اور محنت کشوں کی اہمیت کا اعتراف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حکومت مزدوروں اور محنت کشوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی اور اُن کا وقار بھی برقرار رکھا جائے گا، یکم مئی اپنے حقوق کے لیے جانیں نچھاور کرنے والے محنت کشوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، یہ دن ملک کی معاشی ترقی کے لیے مزدوروں اور محنت کشوں کی اہمیت کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب سماجی انصاف اور لوگوں کے حقوق کے احترام کے اصولوں پر زور دیتا ہے، دنیا بھر کے تمام مزدور پیشہ افراد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ 1886ء میں شکاگو کے مزدورں نے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کر کے انہیں اپنی جرات اور تنظیم پروان چڑھانے کا شعور دیا، قربانی اور اس تحریک میں محنت کی قدر و احترام کا تصور ایک روح کی حیثیت رکھتا ہے، اس دن ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ ہم قومی ترقی کیلئے نیک نیتی سے کام کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محنت کشوں کی
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔