Express News:
2026-07-24@05:11:51 GMT

بھارت سندھ طاس معاہدے میں تبدیلی کا خواہشمند

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

ہم پاکستانی انتہائی خوش فہم اور گزارہ کرنے والے لوگ ہیں۔ہم مستقبل میں نہ جھانکتے اور نہ ہی مستقبل کے لیے پلاننگ کرتے ہیں۔جب کہ بھارتی حکمران جماعت بی جے پی میں اکثریت آر ایس ایس کیڈر سے آتی ہے۔وہ ہندو آئیڈیالوجی پر پورا یقین رکھتے اور اس پر عمل کرنے والے لو گ ہیں۔بی جے پی کے رہنماؤں نے لمبے غور و خوض کے بعد مہا بھارت کا نقشہ تیار کیا ہے۔

بی جے پی مہا بھارت کو حاصل کر کے اسے ایک عظیم ہندو سماج ،ہندو راشٹریہ میں ڈھالنے میں لگی ہوئی ہے۔ بی جے پی نے سوچ سمجھ کر،مکمل پلان کر کے اگست 2019 ء میں بھارتی آئین سے آرٹیکل 370نکالا۔اس سے پہلے انھوں نے بہت سے دانشوروں اور سفارتکاروں سے صلاح مشورہ کیا تاکہ جان سکیں کہ پاکستان کا کیا ردِ عمل ہو گا اور کشمیری مسلمان کیا کریں گے۔بدقسمتی سے کشمیری مسلمان ظلم سہتے سہتے بہت کمزور ہو چکے ہیں اور پاکستان کے سیاسی رہنما مستقبل میں دیکھنے سے عاری ہیں۔ادھر 2019 میں پاکستان کے وزیرِ اعظم کے پاس بین الاقوامی سیاسی امور کا تجربہ نہیں تھا۔ یوں بھارت نے بہت آسانی سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے اسے اپنا ایک صوبہ بنا لیا۔

بھارت سندھ طاس معاہدے میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کروانے کا خواہشمند ہے۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے بھارت بین الاقوامی معاہدے پر نئے سرے سے مذاکرات کر کے اپنی مرضی کے مطابق پاکستان کے حصے کے پانی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی منوانا چاہتا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہیں۔

پہلگام میں کیرالہ کے تین جج ٹھہرے ہوئے تھے۔ان ججوں نے آر ایس ایس کے 5اہم کارکنوں کے گھناؤنے جرموں کی وجہ سے انھیں عمر قید کی سزا دی تھی۔بی جے پی ان ججوں کو ٹھکانے لگانا چاہتی تھی۔ان کے قتل کا پروگرام بنایا گیا اور حسبِ معمول الزام پاکستان پر دھرنا تھا۔یہ تینوں ججز چند لمحے قبل وہاں سے نکل گئے اور ان کی جگہ فائرنگ کی زد میں آ کر دوسرے لوگ مارے گئے۔بی جے پی کا ایک منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا لیکن باقی تو پاکستان پر الزام لگانا تھا،وہ بھارت نے لگا دیا۔اس الزام کی آڑ میں پاکستان کو دباؤ میں لا کر سندھ طاس معاہدے کو ری نیگوشی ایٹRenegotitate کروانا چاہتا ہے۔جناب ٹرمپ کے اقدامات کی وجہ سے ورلڈ بینک اپنے وجود کی جنگ لڑ رہا ہے،اس لیے بہت کمزور ہے۔

بھارت ورلڈ بینک کی کمزوری سے آگاہ ہے۔بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر نئے سرے سے مذاکرات کے لیے پاکستان کے وفاقی سیکریٹری پانی و بجلی کو 24اپریل کو ایک خط تحریر کر دیا ہے۔پہلگام کے افسوس ناک واقے کو ہوئے کئی روز ہو گئے ہیں۔بھارت میں اب بھی اس پر 24گھنٹے بات ہو رہی ہے۔

دونوں اطراف اتنا کچھ لکھا جا چکا اور کہا گیا ہے کہ شاید اب کہنے کو کچھ نہیں رہا لیکن اس کا کیا کریں کہ پاکستان بھارتیوں کے اعصاب پر سوار ہے۔بھارتی میڈیا کے اسٹوڈیوز وار رومز میں تبدیل ہو چکے ہیں اور مسلسل پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پاکستانیوں کے لیے بھارت اہم نہیں۔پاکستان میں عام طور پر بھارت زیرِ بحث نہیں آتا،لیکن بھارت کے اندر صورتحال بالکل مختلف ہے۔بھارت کے انتخابات میں پاکستان ایک اہم ایشو ہوتا ہے۔بھارتی لیڈروں کے لیے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کو للکاریں۔

بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کو Held in abeyance  کردیا ہے۔انڈس واٹر ٹریٹی میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ دونوں میں سے کوئی ایک فریق یک طرفہ معاہدے سے نکل جائے۔بھارت وقتی طور پر پانی بھی بند نہیں کر سکتا کیونکہ سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کا حق ہے۔یہ حق اس معاہدے میں بھی مانا گیا ہے اور بین الاقوامی قانون بھی یہی کہتا ہے۔

بھارت کے پاس ان تین دریاؤں کا پانی روکنے کے لیے نہ تو ڈیمز ہیں جو اس سارے پانی کو اسٹور کر سکیں اور نہ ہی پانی کو کہیں اور لے جانے کے لیے نہری نظام موجود ہے۔ان تین دریاؤں کا پانی روکنے،اسٹور کرنے اور ری ڈائرکٹ کرنے کو ایک مکمل نہری نظام چاہیے جس پر بے پناہ فنڈز کے علاوہ کم از کم15سے 20 سال درکار ہوں گے۔بھارت ابھی اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔

پاکستان کے انتہائی اہم اداروں کو اس بات کا علم ہو گا کہ دو سال پہلے تک پاکستان کے پاس 170اور بھارت کے پاس164ایٹم بم تھے۔پچھلے دو سالوں میں بھارت نے چپکے سے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 180کر لی ہے جب کہ پاکستان کے پاس شاید ابھی تک 170ہی ہیں۔بھارت نے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں یہ جو تھوڑی سی برتری حاصل کی ہے یہ ہمارے رہنماؤں کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ بھارت کے پاس پہلے ہی ٹینک اور لڑاکا طیارے زیادہ ہیں۔بھارت کی بری فوج پاکستان سے دگنی ہے لیکن بھارتی افواج میں سولجرز کی بڑی تعداد جز وقتی ہے۔

ہمارے جوانوں اور نوجوان افسروں نے ہر جنگ میں اپنی جان پر کھیل کر بہادری کی داستانیں رقم کی ہیں ۔اب ہمارے افسران بہت اچھے تربیت یافتہ ہیں اور مغربی گرم سرحد نے انھیں بہت Battle hardened بھی کر دیا ہے۔اگر بھارت نے کھلم کھلا جنگ مسلط کی جس کا امکان نہیں ہے تو اسے دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔ ہاںبھارت آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان میں کسی جگہ محدود حملے کی کوشش کر سکتا ہے۔بھارت اپنی غلطی سے پارہ اتنا چڑھاچکا ہے کہ اب اسے پریشر میں آ کر کچھ نہ کچھ کرنا ہے ورنہ اس کی بہت سبکی ہو گی۔

پاکستان کو فوری طور پر اپنے War Stemina کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ سمندر کے راستے اپنی سپلائی لائن کو کھلا رکھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ایران سے مسلسل تیل سپلائی کے لیے پروٹوکول سائن کرنا ہوگا۔سول ڈیفنس کی تنظیموں کو فوری فعال بنانا ہوگا۔پاکستانی عوام کو ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے افواج کی نقل و حرکت کی نہ تو تصویر بنانا ہو گی اور نہ ہی ایسی انفارمیشن شیئر کرنا ہو گی ورنہ بہت نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

ہمارے سیاست دانوں کو پاکستان کے دفاع میںیک جان ہونا اور سفارت کاروں کو پرو ایکٹو ہونا ہوگا۔ہر ایک کو اپنی اپنی جگہ ذمے داری لینا ہوگی۔پاکستانی عوام پر بھروسہ کرتے ہوئے انھیں سچ بتانا ہوگا۔بھارت کے خلاف ایک جاندار اور مضبوط بیانیہ بنا کر میڈیا کے لوگوں کو سرگرم کرنا ہوگا۔پاکستان کوFormidable بنانے کے لیے یہ سب بہت ضروری ہے۔خدا پاکستان کی حفاظت فرمائے۔آمین۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے پاکستان کے پاکستان کو اس معاہدے بھارت نے ہے بھارت بی جے پی کرنا ہو ہیں اور کے پاس

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم