بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہا، بہن بھائیوں کی حمایت جاری رکھیں گے: رانا ثناءاللہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
فیصل آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہا ہے، پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بھارت نے پہلگام کی آڑ میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا، بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی، بھارت پہلگام واقعے کی آڑ میں پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مودی نے آئی ایم ایف سے پاکستان کا پروگرام معطل کرنے کا کہا، پاکستان نے بھارت کے بے بنیاد پروپیگنڈے کو ناکام بنایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ اور آزاد تحقیقات کی پیشکش کی، بھارتی مظالم کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔