ہماری قوم کراچی سے خیبر اور لاہور سے لاڑکانہ تک متحد ہے، بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
قومی اسمبلی کے اجلاس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کا دوٹوک انداز میں دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے حسبِ روایت بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی، حالانکہ پاکستان خود دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ہے۔ ہماری قوم کراچی سے خیبر اور لاہور سے لاڑکانہ تک متحد ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشتگردی کا مقابلہ صرف ٹینکوں سے نہیں بلکہ انصاف اور مساوات سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنے ہزاروں شہریوں، بچوں اور سپاہیوں کو دہشتگردی کی نذر ہوتے دیکھا، دنیا خاموش رہی مگر ہم نے قربانیاں دیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کشمیر کے حوالے سے بھی بھارت کے مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، یہ ایک وعدہ ہے جو بھارت نے عالمی برادری اور کشمیری عوام سے کیا تھا اور اس کی تکمیل آج تک نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہے اور اسی وقت پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگاتا ہے، یہ دوغلا پن ہے۔
مزید پڑھیں: پہلگام حملہ: بھارت کی سفارتی تنہائی، پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم
ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے میں جاں بحق افراد کا خون خشک بھی نہیں ہوا تھا کہ بھارت نے پاکستان پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں۔ یہ وہی رویہ ہے جو بھارت ماضی میں بھی اپناتا رہا ہے۔ بلاول بھٹو کے مطابق بھارت دہشتگردی کو اپنی خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے، اور 25 کروڑ پاکستانیوں کو بغیر ثبوت ایک نامعلوم دہشتگرد کے فعل کا ذمے دار ٹھہراتا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے تحقیقات کی پیشکش ایک سنجیدہ سفارتی پیش رفت ہے، اور اس پر بھارت کا ردعمل غیر سنجیدہ اور الزام تراشی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت واقعی دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو اسے انصاف، اعتماد اور باہمی احترام کی راہ اپنانی ہوگی۔
اجلاس میں خطاب کے دوران انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی ممکنہ معطلی کو “انسانیت سوز جرم” قرار دیا اور کہا کہ دریائے سندھ صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری تہذیب، ہماری ثقافت اور ہماری معیشت کا مرکز ہے۔ یہ دریا ہماری زمینوں میں نہیں، ہمارے خون میں بہتا ہے۔
مزید پڑھیں: پہلگام حملے کے بعد بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ
انہوں نے کہا کہ سندھ محض ایک دریا نہیں، تہذیب کا گہوارہ ہے، اور بھارت کو دریا کے پانی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ ہر قطرہ ہمارے کسانوں کی محنت کا عکاس ہے، اور اس پر وار پوری قوم پر وار ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری احتیاط کو کمزوری نہ سمجھا جائے، افواج پاکستان پوری طرح تیار ہیں، اور قوم کراچی سے خیبر اور لاہور سے لاڑکانہ تک متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قوم جدوجہد سے بنی ہے، اور جدوجہد سے ہی زندہ رہتی ہے۔ دشمن ہمیں کمزور کرنا چاہتے ہیں مگر ہم سب پاکستان ہیں اور ایک ساتھ دل دھڑکتا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس پیغام سے کیا کہ افہام و تفہیم، انصاف اور امن ہی خطے کا مستقبل روشن کر سکتے ہیں، اور پاکستان ہر سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلاول بھٹو زرداری بھارت پہلگام چیئرمین پیپلز پارٹی قومی اسمبلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری بھارت پہلگام چیئرمین پیپلز پارٹی قومی اسمبلی
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ