سلامتی کونسل اجلاس، سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر تحفظات، مسئلہ کشمیر کے حل پر زور
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بھارت، پاکستان کشیدگی پر بند کمرہ اجلاس میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورت حال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال
سلامتی کونسل کے ارکان کا پاکستان بھارت پر کشیدگی کو کم کرنے ، فوجی محاذ آرائی، تنازعات سے بچنے اور مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بند کمرہ اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بھارت، پاکستان کشیدگی پر بند کمرہ اجلاس ہوا جس میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورت حال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سلامتی کونسل کے ارکان نے کشیدگی کو کم کرنے ، فوجی محاذ آرائی، تنازعات سے بچنے اور مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیا۔پاکستانی مندوب عاصم افتخار کی جانب سے بھارت کے 23 اپریل کے غیرقانونی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے مکالمہ اور عالمی قانون کا احترام ضروری ہے لیکن بھارت کا رویہ ان دونوں سے عاری ہے ۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ کشمیر کی عوام کو انصاف چاہئے ، پاکستان اپنے حقوق پر کسی دھمکی کو قبول نہیں کرے گا۔ سلامتی کونسل کے اجلاس پاکستانی مندوب نے بھارت کی ممکنہ عسکری کارروائی کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا ایک خطرناک اقدام ہے ، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے ۔ترجمان نے واضح کیا کہ دریاؤں کا بہاؤ روکنا یا اس کا رخ موڑنا دراصل جنگ کے مترادف ہوگا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی اس بھارتی اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے ثالثی کی درخواست کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تاکہ خطے میں پانی کے مسائل پر امن حل تلاش کیا جا سکے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔