بھارتی جارحیت افسوسناک، دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں: عالمی برادری
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ویب ڈیسک) عالمی برادری نے بھارتی جارحیت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں۔
چینی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دونوں ملک پر سکون رہیں، تحمل کا مظاہرہ کریں، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت افسوسناک ہے، ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں۔
ادھر اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونی مینول نے پاک بھارت جنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ صورتحال تشویش ناک ہے، تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔
یو اے ای کا پاک بھارت کشیدگی پر اظہارِ تشویش، تحمل اور سفارتکاری پر زور
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو علاقائی یا عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یو اے ای کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال حساس نوعیت کی ہے اور اس کا واحد پائیدار حل سفارتکاری اور بات چیت سے ہی ممکن ہے، پاکستان اور بھارت کو چاہیے کہ وہ تنازع کو مزید بڑھانے کے بجائے امن کی راہ اختیار کریں تاکہ خطے میں استحکام قائم رہے۔
شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ یو اے ای ہمیشہ سے خطے میں امن و استحکام کا داعی رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے بھارت کے پاکستان پر حملے کو شرمناک قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کاردعمل سامنے آگیا، انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یہ شرمناک حرکت ہے ہم نے پاکستان کے خلاف بھارت کے حملے بارے سنا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے پاکستان پر حملے کے بعد دنیا بھر میں ایک بار پھر بھارت کو سفارتی سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور سب سے پہلے امریکی صدر کا مذمتی بیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان کا منہ توڑ جواب، بھارت کی عرب دنیا سے کشیدگی کم کرانے کی اپیل
دوسری جانب پاکستان کے بھارتی جارحیت کے بھرپور جواب کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور عرب دنیا سے کشیدگی کم کرانے کے لیے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی حکام نے عرب ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے حکام سے رابطہ کر کے درخواست کی کہ وہ پاکستان پر اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کو کم کرائیں۔
ذرائع نے بتایا کہ بھارت نے عرب دنیا کے حکمرانوں سے پاک بھارت تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے تاہم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بھارتی جارحیت کا جواب دینا اس کا حق ہے اور وہ اپنے دفاع میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
جواب دینے کے وقت اور جگہ کا تعین ہم کریں گے: پاکستان نے عالمی برادری کو آگاہ کر دیا
علاوہ ازیں پاکستان نے بھی بھارتی جارحیت کے بارے میں عالمی برادری کو آگاہ کرنا شروع کر دیا، پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کیا۔
پاکستان نے بھارتی جارحیت سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے، وقت اور جگہ کا تعین پاکستان کرے گا، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں درج اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تحمل کا مظاہرہ کریں بھارتی جارحیت عالمی برادری دونوں ممالک پاکستان کے پاکستان پر پاکستان نے بھارت کے کہ بھارت یو اے ای ہے اور
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔