پاکستان پر حملہ : بھارت عالمی برادری کو قائل کرنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
کراچی:
بھارت پاکستان پر حملے کی وجوہات پر طاقتور ممالک اور عالمی برادری کو قائل کرنے میں ناکام ہوگیا، یہ پاکستان کی موثر سفارت کاری کے سبب ممکن ہوا ہے، دفتر خارجہ بھارت کا اصل اور مکروہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے لانے کے لیے متحرک ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان نے پہلگام واقعہ اور بھارتی حملے کے اصل حقائق سے امریکا سمیت تمام دوست ممالک اور عالمی برداری کو اوپن اور بیک ڈور سفارتی رابطوں کے ذریعے آگاہ کردیا۔
امریکا سمیت تمام دوست ممالک پاکستان کے موقف کو واضح انداز میں تسلیم کر رہے ہیں، عالمی برادری کی جانب سے مودی حکومت پر سفارتی دباؤ بڑھنا شروع ہوگیا ہے کہ وہ مزید جنگی ماحول پیدا نہ کرے، مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔
اس سفارتی ناکامی نے مودی حکومت کے ہوش اڑادیے ہیں، بھارتی حکومت اس جنگی اور سفارتی محاذوں پر ناکامی کے بعد پریشانی میں مبتلا ہوتی جارہی ہے اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نظر آرہی ہے۔
اس حوالے سے وفاقی حکومت کے ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ مودی حکومت پہلگام واقعہ پر پاکستان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کرنے کی پیشکش دی جس کو مودی حکومت نے قبول نہیں کیا اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ بھارت کے پاس پہلگام واقعہ کے کوئی ثبوت موجود ہی نہیں تھے اس لیے مودی سرکار نے اس معاملے پر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق اس سفارتی ناکامی کے بعد بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا اور جواز دیا کہ ہم نے مبینہ طور پر جہادی تنظیموں کے کیمپوں پر حملہ کیا ہے لیکن اس الزام کا بھی کوئی ثبوت مودی حکومت کی جانب سے پیش نہیں کیا گیا اور یہ بھارتی دعوی بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اس حملے کے بعد سفارتی سطح پر اصل وجوہات سامنے لایا کہ بھارت نے جو حملہ کیا ہے وہ پاکستان کی رہائشی آبادیوں اور مساجد پر کیا گیا، ان حملوں میں بے گناہ افراد اور بچے شہید اور زخمی ہوئے، پاکستان نے ان بھارتی حملوں کا موثر ترین جواب دے کر مودی سرکار کی دفاع صلاحیتوں میں ناکامی کا پول عالمی سطح پرکھول دیا۔
وفاقی حکومت کے حکام نے بتایا کہ اس حملے کی امریکہ سمیت تمام اہم ممالک نے مذمت کی ہے، بھارتی حکومت اس حملے کی وجوہات کے ثبوت تاحال عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
وفاقی حکومت کے حکام نے بتایا کہ بھارتی حملوں اور پاکستان کی جانب سے اس کے موثر جواب کے بارے میں وزیراعظم کی ہدایت پر دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات متحرک نظر آرہی ہے، پاکستان حکام سے دنیا کی سپرپاورز سمیت دوست ممالک، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے مختلف فورمز نے سفارتی رابطے کیے ہیں، کئی ممالک سے پاکستانی حکومت نے بھی رابطے کیے ہیں، ان سفارتی رابطوں کے لیے اوپن اور بیک ڈور پالیسی اختیار کی گئی، ان سفارتی رابطوں میں پاکستانی حکام نے دنیا کو اپنی امن پسندی کی پالیسی، بھارتی حملوں کے ناکام جواز اور جوابی دفاعی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔
ان سفارتی رابطوں میں پاکستان حکام نے واضح موقف اختیار کیا کہ پاکستان میں جہادی تنظیموں کا کوئی کیمپ موجود نہیں ہے، بھارتی الزامات غلط ہیں، پاکستان ہر طریقے کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، حملہ میں پہل بھارت نے کی ہے جو مودی کا جنگی جنون ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے ڈائیلاگ کا آپشن اختیار کرتا ہے مگر پاکستان کی امن پسند کی پالیسی اس کی کمزوری نہیں ہے۔
وفاقی حکومت کے حکام نے بتایا کہ پاکستان نے موثر سفارتی کاری کرتے ہوئے بھارتی حملے کے جھوٹے جواز کو عالمی سطح پر ناکام بنادیا ہے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے مودی حکومت پر سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جنگی جنون سے باز رہے اورامن کا راستہ اختیار کرے، جنگی اور سفارتی محاذوں پر ناکامی کے بعد بھارت کے پاس اپنی مزید ناکامی سے بچنے کے واحد راستہ ڈائیلاگ بچتا ہے جس کو جلد وہ اختیار کرنے پر جلد از خود مجبور ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت کے کرنے میں ناکام سفارتی رابطوں عالمی برادری نے بتایا کہ مودی حکومت پاکستان نے پاکستان کی کی جانب سے اور عالمی حکام نے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک غلط اندازہ یا ایک بے قابو فوجی کارروائی پورے مشرقِ وسطی کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اب صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا اسلام آباد کا دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ون آن ون ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور موجودہ جنگی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس وقت کا انتخاب خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم رابطہ کار اور ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز، عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اگر اس تنا میں حوثی تحریک اور سعودی عرب براہِ راست آمنے سامنے آ جاتے ہیں تو پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسی صورتِ حال لازما “منی ورلڈ وار” میں تبدیل ہو جائے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر متعدد علاقائی اور بین الاقوامی فریق براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو گئے تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ایسے حالات میں پاکستان کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکہ اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔ یہی متوازن تعلقات اسلام آباد کو ایسے ممالک میں شامل کرتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔گزشتہ مہینوں میں بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ ایرانی وزیر داخلہ براہِ راست اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی خطے کے دارالحکومتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ کسی نئی ثالثی یا معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے متوازن خارجہ تعلقات کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔دنیا کو اس وقت جنگی نعروں سے زیادہ امن کے پیغام کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطی پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے، اور ایک نئی وسیع جنگ نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔آج اسلام آباد صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ امید کی ایک ممکنہ کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت، متوازن پالیسی اور تمام فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں بروئے کار لاتا ہے تو وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔تاریخ میں بعض اوقات جنگیں طاقت سے نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری سے رکی ہیں۔ شاید یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں بندوقوں کی گھن گرج سے زیادہ اہمیت مذاکرات کی میز کو حاصل ہو سکتی ہے۔مشرقِ وسطی کی موجودہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو صرف میزائلوں کا تبادلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگوں پر منڈلاتا ہوا خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ چکی ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں یا وہاں سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف باب المندب بھی حوثی کارروائیوں کے باعث غیر محفوظ ہو جاتا ہے، تو دنیا ایک غیر معمولی تیل و گیس بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ خطرہ محض عالمی خبروں تک محدود نہیں۔ سعودی عرب سے آنے والے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم حصہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے بحری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر ان آئل ٹینکروں پر حملے شروع ہو جاتے ہیں یا جہاز رانی شدید متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو ایندھن کی سپلائی، درآمدی لاگت، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے بحران جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سفارتی توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ہے، دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست، اہم اقتصادی شراکت دار اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا بڑا ملک ہے۔ اسلام آباد کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا تقاضا ہے۔ایران اور یمن کے حوثی رہنماں کو بھی پاکستان کی اس مجبوری اور حساس پوزیشن کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان آنے والے توانائی کے بحری راستے متاثر ہوں یا پاکستان کے مفادات براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں، تو خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطی ایک وسیع تر بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان اپنی متوازن سفارت کاری، علاقائی اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ کے شعلوں کو پھیلنے سے روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیل گیا تو اس کی تپش صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ واقعی آگ کے الا میں تبدیل ہو سکتا ہے۔