Express News:
2026-07-24@10:37:03 GMT

سوشل میڈیا پر شرپسند باز نہیں آ رہے

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

جنگ کو مذاق سمجھنے والے بھارت و پاکستان کے سوشل میڈیا نے لیبیا، شام اور افریقہ کے وہ جنگ زدہ ممالک نہیں دیکھے جہاں ہر طرف تباہی و بربادی پھیلی ہوئی ہے۔ فصلیں تباہ، عمارتیں ملبوں کا ڈھیر بن چکی ہیں اور غربت و افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، بھوک و افلاس سے جانی نقصان معمول بنا ہوا ہے۔

علاج و معالجہ مفقود ہو چکا اور زندگی برائے نام رہ گئی ہے جب کہ وہاں جنگی صورت حال تھی وہاں سوشل میڈیا تھا ہی نہیں یا برائے نام تھا جب کہ اب دنیا بھر میں سوشل میڈیا کا راج ہے جو پاکستان میں سیاسی اور مفاداتی تھا اور سیاسی ٹرولنگ، مخالفین کی کردار کشی، پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد سے حکمرانوں کا دشمن بن کر ہر معاملے کو مسخ کرکے پیش کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا اور ملک کی محافظ فوج اس کا اصل ہدف رہی کیونکہ فوج اس کی غیر آئینی حمایت پر آمادہ نہیں تھی اور نہ سیاسی معاملات میں مداخلت پر راضی ہو رہی تھی ۔

پی ٹی آئی کے سب سے مضبوط سوشل میڈیا نے اپنی شرمناک ٹرولنگ سے پی ٹی آئی کے مخالف افراد کو نہیں بخشا ۔پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اپنی حکومت کی برطرفی کو اس لیے ہدف تنقید بنائے ہوئے ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم کی اہلیہ کی مبینہ کرپشن اور غلط اقدامات کی نشان دہی کرنے کی غلطی اپنا آئینی فرض سمجھ کر ملک کے مفاد میں کی گئی تھی ۔

موجودہ صورت حال میں جب بھارت پر پاکستان سے لڑنے کا جنگی جنون سوار ہے اور پاک فوج بھارتی دہشت گردی کو ہر جگہ ناکام بنانے کے بعد ملک کے دفاع پر اپنی پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تو سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا اب بھی جاری ہے۔

اس وقت پاک فوج کو قوم کی جو حمایت حاصل ہو چکی ہے وہ بھی شر پسند سوشل میڈیا کو پسند نہیں آئی وہ اب بھی غلط ٹرولنگ سے باز نہیں آ رہا تو پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی میں وہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب جو خود ملک کے پہلے آمر کا پوتا ہے تو اس کا خواب اور مطالبہ ہے کہ موجودہ جنگی حالات میں صرف اس کا سزا یافتہ بانی ہی یہ صلاحیت رکھتا ہے اور بھارتی وزیر اعظم مودی کو اس کی جارحیت سے روک سکے جب کہ یہ وہی مودی ہے جس کی کامیابی کا 2019 میں بانی شدید خواہش مند تھا اور مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی خوشی میں بانی نے وزیر اعظم پاکستان ہوتے ہوئے فون پر مبارک باد دینے کی کوشش کی تھی مگر مودی نے اس کا فون سننا گوارا نہیں کیا تھا اور آتے ہی 5 اگست2019 کو مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرکے اس پر قبضہ کر لیا تھا جس پر بانی نے دکھاؤے کا احتجاج کیا تھا۔

بھارت کا میڈیا جو پہلے ہی مودی کے ہاتھوں بکا ہوا ہے اس نے تو مودی حکومت سے نمک حلالی کرنی ہی تھی جو مودی کی سرپرستی میں پاکستان دشمنی میں اندھا تھا اس کے متعدد ٹی وی اینکروں اور وی لاگرز نے جہاں اپنے عوام کو حقائق سے لاعلم رکھا اور انھیں بتایا کہ پہلگام میں دہشت گردی خود ’’را‘‘ کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کا مقصد امریکی نائب صدر کی بھارت میں موجودگی کے دوران ڈرامہ رچانا تھا جیساکہ 2019 میں بھی پلواما میں کرایا گیا تھا مگر اس کی طرح 22 اپریل کا ڈرامہ بھی ناکام ہو گیا جس سے عالمی میڈیا بھی متاثر نہیں ہوا۔

بھارت بوکھلاہٹ میں اپنے عوام اور دنیا کو ثبوت دکھانے میں مکمل ناکام رہا اور بھارتی فضائیہ اتنی بزدل تھی کہ پاک فضائیہ کی کارروائی پر اس کے رافیل طیارے کو بوکھلاہٹ میں فرار ہونا پڑا۔ بھارتی فوج کا یہ حال ہے کہ اس نے اپنی ہی فوج کے سات بھارتی فوجی مار دیے۔

بھارت کے دو سو سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارتی حکومت کا پروپیگنڈا دنیا میں پھیلاتے رہے اور پاکستان کو ذمے دار ٹھہرانے کی کوشش کرتے رہے اور پاکستان میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرنا اپنا سیاسی حق سمجھا اور عمر ایوب کے بیانات کے بعد بیرسٹر علی ظفر بھی پیچھے نہ رہے ۔

ایک طرف بھارت کا شرپسند میڈیا شر پسندی پھیلاتا رہا تو دوسری طرف پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے بھی جنگی صورت حال میں بردباری کا مظاہرہ نہیں کیا تو مذہبی بنیاد پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والیشرپسند بھی باز نہیں آرہے جو تفرقہ بازی پھیلا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا تھا اور ہے اور

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی