قومی اسمبلی میں بھارت کیخلاف تاریخی فتح پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
قومی اسمبلی میں بھارت کیخلاف تاریخی فتح پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 12 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)قومی اسمبلی نے بھارت کے خلاف تاریخی فتح پر مسلح افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے متفقہ قرارداد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی جبکہ ایوان نے ملکی دفاع کے لیے جانوں کانذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے پاکستان کی بھارتی جارحیت کے خلاف فتح اور مسلح افواج کو سراہنے کے لیے قرارداد پیش کی گئی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بھارت کے خلاف تاریخی فتح پر اللہ پاک کے شکر گزار ہیں، اور قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں پارلیمان میں تمام سیاسی جماعتوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان پاکستانی قوم کو بلا جواز اور ننگی بھارتی جارحیت کے خلاف مادر وطن کی ارضی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے عزت اور وقار عطا کرنے پر اللہ تعالی کے حضور عاجزی کے ساتھ سر جھکاتا ہے، ایوان پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر سیاسی میدان میں اپنی قیادت کے پیچھے ایک آواز کے ساتھ کھڑی ہے۔قرار داد کے مطابق ایوان پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو غیر معمولی تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ بلا اشتعال بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی خودمختاری کا دفاع کرنے میں ان کی مثالی پیشہ وارانہ مہارت، چوکسی اور حوصلے کو سراہتا ہے اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر شہدا کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتا اور قومی فخر، لچک اور اتحاد کی علامت کے طور پر ان کی عظیم قربانی کا اعتراف کرتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان اس نازک موڑ پر پاکستان کی حمایت پر دوست ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے، وقار اور عزت کے ساتھ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اپنے عہد کا اعادہ کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ جمہوریتیں تنازعات کے بجائے مذاکرات کے لیے پرعزم ہیں لہذا، یہ بات نمایاں ہے کہ جنوبی ایشیا میں محفوظ ہمسائیگی اور طویل مدتی استحکام صرف مخلصانہ اور منظم مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوششوں میں عالمی برادری کو فعال طور پر شامل کریں، سندھ طاس معاہدے کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتا ہے اور قومی سلامتی کے ایک اہم جز کے طور پر پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کی تصدیق کرتا ہے، یہ ایوان قومی مفاد کے تحفظ اور امن، اتحاد اور سلامتی کے فروغ کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرتا رہے گا۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں بھی بھارتی جارحیت کی شکست اور پاکستان کی فتح کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی جبکہ قرارداد ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے پیش کی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بھارت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار آپریشن کی کامیابی پر ایوان قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہے، پاکستان نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا کر قوم کا سرفخر سے بلند کیا، بھارت نے پہلگام واقعہ کو جواز بناکرغیور قوم کو للکارا اور بچوں خواتین سمیت معصوم پاکستانیوں پردہشت گردی کی۔
قرارداد کے متن میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت نے آبی منصوبوں کو بھی نشانہ بنایا جو خطہ نہیں بلکہ عالمی امن کو خطرہ سے دوچار کیا، بھارت نے 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا یکطرفہ اعلان کی جو عالمی خلاف ورزی ہے اس پانی پر عوام کا حق ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ متن میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے بھارت کو ایسا جواب دیا کہ وہ اپنے شکست خوردہ زخم کو چاٹنے پر مجبور ہوگیا، سیسہ پلائی دیوار آپریشن سے عسکری و سیاسی قیادت نے قوم کے وعدے کو پورا کیا، ملکی سلامتی کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا اور کبھی بھی پاکستان پر بھارتی تسلط خواب پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپشاور زلمی کا پاکستانی پائلٹس کو خراجِ تحسین،5کروڑ روپے انعام کا اعلان پشاور زلمی کا پاکستانی پائلٹس کو خراجِ تحسین،5کروڑ روپے انعام کا اعلان پی ایس ایل 10کے بقیہ 8 میچز کب اور کہاں کھیلے جائیں گے، تفصیلات سب نیوز پر اسحاق ڈار کا برطانوی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال سے آگاہ کیا عمران خان سے کل ملاقات کرنے والے رہنماوں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کو ارسال منشیات کی روک تھام، تعلیمی اداروں میں طلبہ کو براہ راست اشیا کی ڈیلیوری روکنے کا حکم بیرسٹرگوہر، علی امین گنڈا پور اور عمر ایوب پر احتجاج کیس میں فرد جرم عائد کئے جانے کا امکانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خراج تحسین پیش تاریخی فتح پر مسلح افواج کو قومی اسمبلی کی قرارداد پیش کرنے کرنے کی کو خراج
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز