پاک امریکا تعلقات کا نیا دور مضبوط اقتصادی تعاون سے عبارت ہے، سفیر رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
امریکا میں پاکستان کے سفیر، رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی تاریخی گہرائی اور وسعت بیکراں ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کا آغاز 15 اگست 1947 کو اس وقت ہوا جب امریکی صدر ہیری ٹرومین نے بانی پاکستان کو ایک مخلصانہ خط کے ذریعے دوستانہ روابط کی بنیاد رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اب پاک امریکا تعلقات کا نیا دور مضبوط اقتصادی تعاون سے عبارت ہے۔
رضوان سعید شیخ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے سینئر سویلین اور فوجی افسران پر مشتمل وفد کا خیر مقدم کیا۔ یہ وفد پاکستان کے معتبر تربیتی ادارے سے قومی سلامتی اور وار کورس مکمل کرنے کے بعد امریکا کے نیئر ایسٹ ساؤتھ ایشیا سینٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے تعاون سے سفارتخانہ پاکستان پہنچا تھا۔
مزید پڑھیں: ’جنوبی ایشیا جوہری تصادم کی دہلیز پر، امریکا کردار ادا کرے‘، پاکستانی سفیر
سفیر پاکستان نے کورس کی کامیاب تکمیل پر شرکا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے اعلیٰ ذمہ داریوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع، اس کی تذویراتی اہمیت، اور دنیا کی پانچویں بڑی آبادی کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کا پاکستان اقتصادی و تجارتی شراکت داری کے نئے افق تلاش کر رہا ہے۔ امریکا نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے بلکہ زراعت اور قیمتی معدنیات جیسے شعبہ جات میں تعاون کے وسیع امکانات بھی موجود ہیں۔
سفیر نے دہشتگردی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں پاکستان کے کلیدی کردار کا ذکر کرتے ہوئے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کی مثال دی، جنہوں نے ملک کا ایک تہائی حصہ متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے میں عالمی شراکت داری نہایت اہم ہے۔
پاک بھارت تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حالیہ کشیدگی میں امریکی کردار کو سراہا اور کہا کہ اگرچہ جنگ بندی مؤثر رہی ہے، مگر یہ نازک ہے۔ جموں و کشمیر جیسے بنیادی مسائل کے پائیدار حل کے لیے امریکا سمیت عالمی برادری کی مسلسل توجہ اور مداخلت ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: کشیدگی نہیں چاہتے، تاہم اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکا میں پاکستانی سفیر کا سی این این کو انٹرویو
انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے یکطرفہ اقدامات کے خلاف خبردار کیا، جو علاقائی استحکام اور غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ سفیر پاکستان نے زور دیا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان تذویراتی شراکت داری باہمی مفادات اور خطے کے استحکام پر مبنی ہونی چاہیے۔
انہوں نے پاکستان کی نوجوان آبادی کو ایک قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے تکنیکی مہارتوں کو مستقبل کی شراکت داری کا سنگِ بنیاد قرار دیا۔ اجلاس کے دوران شرکا نے عالمی اور علاقائی چیلنجز، سیکیورٹی خدشات، اور پاک امریکا تعلقات کے مستقبل پر تفصیلی سوالات کیے، جن کا سفیر نے جامع اور مدلل انداز میں جواب دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکا میں پاکستان کے سفیر بھارت پاکستان رضوان سعید شیخ سندھ طاس معاہدہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکا میں پاکستان کے سفیر بھارت پاکستان رضوان سعید شیخ سندھ طاس معاہدہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی رضوان سعید شیخ میں پاکستان پاکستان کے شراکت داری کرتے ہوئے انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب