”پاک بھارت بارڈر پر پہلا رافیل گرنے تک کا انتظار کرو،، تین سال پہلے کی ہوئی پیش گوئی ہوبہ ہو پوری ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا پر 23 جنوری 2022 کو دفاعی تجزیہ کاروں کے درمیان ہونے والی دلچسپ بحث ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے، جب پاکستانی صارف عمر خیام کی تقریباً تین سال پرانی پیشگوئی درست ثابت ہوگئی۔
ایکس پر دفاعی امور پر تبصرہ کرنے والے صارف “ST” نے روسی ساختہ Su-30MK طیاروں اور چینی J-16 کی برتری پر روشنی ڈالی تھی، جس پر عمر خیام (@utggondal) نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی J-10 اور J-16 طیاروں نے غیر امریکی طیارہ ساز کمپنیوں جیسے روس اور یورپ کی ہوا نکال دی ہے۔مگر بحث یہیں نہیں رکی۔ “ST” نے کہا کہ J-16 ایکسپورٹ نہیں ہو سکتا اور J-10 خریدا نہیں جا رہاجبکہ یورپی طیارے جیسے رافیل اور ٹائیفون مشرق وسطیٰ میں مقبول ہو رہے ہیں۔ اس پر عمر خیام نے جواب دیا”پہلے رافیل گرے گا، پھر رجحان بدلے گا، چین سستا اور سیاسی طور پر موزوں ہتھیار پیش کرتا ہے۔عمر خیام نے پیش گوئی کی کہ پہلا رافیل یا تو اروناچل پردیش یا پاک-بھارت سرحد پر گرایا جائے گا۔
جواباً “ST” نے ان کے تجزیے کا مذاق اڑایا، لیکن عمر خیام نے پر اعتماد انداز میں کہا:”امید نہیں، پیشگوئی ہے۔”اب تین سال بعد، عمر خیام کا آخری ٹوئٹ “اب بول؟” سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے، جہاں صارفین ان کی پرانی بات کو موجودہ حالات سے جوڑتے نظر آ رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:آئی ایم ایف نے بجٹ کی منظوری اپنی ٹیم کے ساتھ معاہدے سے مشروط کردی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عمر خیام
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔