پاکستان اور ایران نے تجارتی تعلقات میں ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
تجارتی ترقی کے اس سفر میں تہران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو کی کوششیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مدثر ٹیپو نے ایران کیساتھ تجارتی راستے کھولنے اور پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاک ایران باہمی تجارت 3 ارب ڈالرز سے بڑھ گئی ہے، جو دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں بڑی پیشرفت تصور کی جا رہی ہے۔ تجارتی ترقی کے اس سفر میں تہران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو کی کوششیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مدثر ٹیپو نے ایران کیساتھ تجارتی راستے کھولنے اور پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹس کے مطابق ایران کیلئے پاکستان کی برآمدات 700 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ خاص طور پر فروزن گوشت کی ایران میں برآمد متعارف کرائی گئی، جو کہ ایک بڑی پیشرفت ہے۔
گزشتہ سال پاکستان نے ایران کو 150 ملین ڈالر مالیت کا فروزن گوشت برآمد کیا، جسے وہاں خوب پذیرائی ملی۔ ایران کو برآمد کی جانیوالی دیگر پاکستانی اشیاء میں کینو، آم، چاول اور دیگر زرعی مصنوعات شامل ہیں، جو ایرانی مارکیٹ میں مقبول ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان ایران سے ایل پی جی اور بیجو مین درآمد کرتا ہے، جو توانائی اور تعمیراتی شعبے کیلئے اہم ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے، جو خطے میں اقتصادی استحکام کا ایک نیا باب رقم کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مدثر ٹیپو
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔